ھفتہ, 13 جولائی 2024


پاکستان میں 80 لاکھ بچے تھیلیسیمیا کا شکار ہیں، ماہرین طب

ایمز ٹی وی (اسپیشل رپورٹ) طبی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اورسی کی اعلیٰ معیارکی اسکریننگ اورمحفوظ انتقال خون کے کم معیار کے باعث تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کاعلاج بہترین طریقے سے نہیں ہو پا رہا۔

 

تھیلیسیمیا کے علاج میں انتقال خون کے بعد سب سے اہم چیز جسم سے فاضل فولاد نکالنے کی دوا انتہائی مہنگی اور مریضوں کی پہنچ سے دور ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے متاثرہ بچے 10سال کی عمر سے ہی مختلف پیچیدگیوں اور بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں، اس بیماری سے بچاؤ ہی اس کا بہترین علاج ہے۔ 

 

ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو پاک چین میڈیکل کانگریس کے سلسلے میں پی ایم اے ہاؤس میں خون کی بیماریوں کے عنوان پر منعقد ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مقررین میں چلڈرن کینسر اسپتال کے ڈاکٹر شیمویل اشرف، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کے ڈاکٹر ثاقب انصاری، پی ایم اے کراچی کے سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قاضی واثق اورحسینی بلڈ بینک کے ڈاکٹر سعید علی حسین شامل تھے۔

 

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ پاکستان میں 5 سے 7 فیصد آبادی یا 80 لاکھ افراد تھیلیسیمیا سے متاثر ہیں، ملک بھر میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی تعداد 80 ہزار سے زائد ہے جب کہ اس تعداد میں ہر سال 5 ہزارکا اضافہ ہورہا ہے، انھوں نے کہا کہ تھیلیسیمیا متاثرین کے تمام اہل خانہ کی اسکریننگ لازمی ہونی چاہیے تاکہ 2 تھیلیسیمیا مائنر آپس میں شادی نہ کریں اور مزید ایسے بچوں کی پیدائش نہ ہو، دوران حمل 12ویں ہفتے کے دوران بھی ٹیسٹ کے ذریعے تھیلیسیمیا کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔

 

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ شادی سے پہلے لڑکے کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ ہونا چاہیے اور مائنر ہونے کی صورت میں پھر لڑکی کا بھی ٹیسٹ کیا جائے، دونوں مائنر ہونے کی صورت میں آپس میں شادی نہ کریں، انھوں نے کہا کہ تھیلیسیمیا کی روک تھام کے لیے حکومت کے ساتھ تمام سماجی تنظیموں کو بھی مربوط حکمت عملی کے تحت مل کر کام کرنا ہو گا۔ 

 

ڈاکٹر سعید علی نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 36لاکھ خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کا ایک بڑا حصہ تھیلیسیمیا کے بچوں اور زچگیوں میں کام آتا ہے، 95 فیصد افراد صرف اپنے اہل خانہ کے لیے خون عطیہ کرنے آتے ہیں۔

 

انتقال خون سے پہلے ہیپاٹائٹس بی، سی، ایچ آئی وی ، سیفلیس اور ملیریا کی اسکریننگ لازمی ہونی چاہیے اور لوگوں کو بھی چاہیے کہ صرف رجسٹرڈ اور سہولیات کے حامل بلڈ بینکس سے خون حاصل کریں،انھوں نے کہا کہ خون کی کمی کی صورت میں انتقال خون سے پرہیز کرنا چاہیے ، بہتر ہے کہ ادویات کے ذریعے اس کمی کوپورا کیا جائے۔

 

ڈاکٹر شیمویل اشرف نے بتایا کہ ملک میں بچوں میں خون اور منہ کا کینسر بڑھ رہا ہے، سگریٹ پینے والے ہر100میں سے 80 افراد ہر سال کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں، ہر ایک لاکھ میں سے 100بچے ہر سال کینسر کا شکار ہوتے ہیں ، انھوں نے بتایا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں 80سے 85فیصد کینسر کے کیسز مکمل طور پر قابل علاج ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ شرح پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں 20سے 25 فیصد تک ہے۔

 

یہاں کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے، ایک کیس پر 2 سے15 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں،دریں اثنا کانگریس کے سلسلے میں مالیکیولر پیتھالوجی کے موضوع پر ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹریز ہیڈ آفس میں ایک سیمینار منعقد ہوا جس سے لیاقت نیشنل اسپتال اور میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ایم اسرار ناصر نے خطاب کیا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment