اتوار, 16 مئی 2021


تعلیم کے فروغ کے لیے ایک معذور لڑکی کی کوشش

ایمز ٹی وی (ایجوکیشن) پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر عمرکوٹ سے چار کلو میٹر کے فاصلے پر ایک  چھوٹے سے گاؤں میں درختوں کی شاخوں، بانسوں اور لکڑیوں سے بنا جھونپڑی اسکول اس دیہات کے بچوں کیلئے واحد 'ذریعہ تعلیم'  ہے۔

اپنی نوعیت کا یہ اسکول ایک معذور لڑکی کا ہےجو اس چھوٹے سے گاؤں کے درجنوں بچوں کو  مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ آنسو کوہلی کو اس اسکول کو چلانے کے لیے نا تو کوئی سرکاری وسائل حاصل ہیں اور نا ہی کسی فلاحی ادارے یا این جی اوز سے کسی قسم کی کوئی مراعات۔ اس جھونپڑی اسکول میں 200 کے قریب بچے بچیاں علم حاصل کرنے آتے ہیں۔

20 سالہ آنسو کوہلی نامی یہ لڑکی ایک ٹانگ سے معذور ہے مگر اس معذوری میں بھی وہ تعلیم کے جذبے سے سرشار ہے اور اپنے گاؤں کے تمام بچوں کو پڑھا لکھا دیکھنا چاہتی ہے۔ آنسو کوہلی اپنے گاوں کی واحد لڑکی ہے جو گریجویشن کر رہی ہے۔ اپنے اسکول کے بارے میں آنسو بتاتی ہے کہ بچپن سے ہی اس کے والد نے اسے استانی کے روپ میں دیکھنا شروع کردیا تھا اور اس کے بقول والد کا کہنا تھا کہ تم پڑھ کر اپنے گاوں کے سب بچوں کو تعلیم دینا۔

آنسو کی خواہش ہے کہ اسے اس کے والد کے نام پر ایک اسکول بنا کر دیا جائے۔ "مجھے آگے بڑھنا ہے اور کسان کے بچوں کو علم کی روشنی دینی ہے۔" وہ کہتی ہیں کہ وہ تعلیم کو ایسے عام کردے کہ اسی کی طرح علم کی شمعیں جلانے والی مزید 'آنسو کوہلی' لڑکیاں بنیں اور علم کو فروغ دیں"۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment