جمعہ, 31 مئی 2024


ہمیں خلائی سائنس اورٹیکنالوجی کی اہمیت اورافادیت کواجاگرکرنےکی اشدضرورت ہے

کراچی : سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میتھمیٹکس نے ورلڈاسپیس ویک کے حوالے سے قومی وبین الاقوامی سمینارز کی ایک سیریز کا انعقاد کیا جس میں ممتاز ریسرچ اسکالرز نے اپنے تحقیقی مقالے شیئر کئے ۔

بین الاقوامی سمینارز کے مقررین میں برطانیہ کی مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے Dr.Olugbenga Ogunmodimu اور ترکی کے Dr. Ümit Deniz Göker شامل تھے جبکہ قومی سیمینارز کے اسکالرز میں پروفیسر وقارحیدربخاری، اسماء ظفر اور پروفیسر ڈاکٹر راشد کمال انصاری شامل تھے ۔

اسپیس ویک پروگراموں کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ ہمیں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنے کی اشدضرورت ہے اور نئی نسل کی تربیت اس انداز سے کی جائے کہ وہ خلائی ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کر سکیں اور اس شعبے میں دلچسپی لیں اور انسانی خدمت کے لیے اسے اپنے کیریئر کے طورپر اپنائیں ۔

انھوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ سرسید یونیورسٹی نے ایک اہم فورم سے منسلک ہو کر اسپیس ویک پروگراموں کا انعقاد کیا ہے اور اس بات کا جائزہ لینے کو کوشش کی ہے کہ خلائی سائنس انسانی زندگی کے لئے کس قدر اہم ہے اور انسانوں کی کیسے مدد کر سکتی ہے ۔ ہم اسپارکو کے ساتھ مل کر خلائی سائنس سے متعلقہ ایشوز پر کام کرنا اورتحقیق کو آگے بڑھاناچاہتے ہیں ۔

قبل ازیں شعبہ میتھمیٹکس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر راشد کمال انصاری نے بتایا کہ سرسید یونیورسٹی نے اسپیس ریسرچ پر کیا کام کیا ہے ۔اس موقع پر شعبہ میتھمیٹکس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر راشد کمال انصاری نے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین کو روس کی آرٹسٹVictoria Nikulina کی تصویر Saturn کا عکس پیش کیا جسے ان کی اجازت سے سرسیدیونیورسٹی کے زیراہتمام منعقدہ اسپیس ویک پرگراموں میں علامتی نشان کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ تقریب کی میزبانی کے فراءض سنیئر لیکچرر انجیلا رحیم نے انجام دئے ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment