اتوار, 16 مئی 2021


سرسیدیونیورسٹی اورحسواکےاشتراک سےمصنوعی ٹانگ کی تیاری

کراچی: سر سید یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنالوجی اور ہیلتھ اینڈ سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن ( حسوا HASWA) کے اشتراک سے ایک خودکارمصنوعی ٹانگ تیار کی جارہی ہے جس کی تفصیلات اور اب تک کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ایک سیشن کا انعقاد کیا گیا۔

اس سیشن میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر ولی الدین ،چانسلر جاوید انوارکے علاوہ رجسٹرار سید سرفراز علی، اکبر اسماعیل، انجینئر ڈاکٹر سرمد شمس و دیگر شامل تھے ۔

اس موقع پر سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے کہا کہ ایسے افراد کو دیکھ کر بہت رنج اورتکلیف ہوتی ہے جن کے ہاتھ پیر نہیں ہوتے ۔ تاہم مصنوعی اعضاء اصلی ہاتھ پیر کا نعم البدل تو نہیں ہوسکتے لیکن کافی حد تک معذوری کو ختم کر دیتے ہیں ۔ مصنوعی ہاتھ پیر لگانے سے نہ صرف اعتماد بحال ہوتا ہے بلکہ دوسروں پر انحصار بھی کم ہوجاتا ہے اور وہ اپنا کام کافی حد تک خود کرنے لگتے ہیں ۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ سرسید یونیورسٹی بھی اس کارِ خیر میں حسوا کے ساتھ ساتھ ہے اور خودکار مصنوعی پیر کی تیاری میں یونیورسٹی کے تمام ذراءع اور وسائل بروئے کار لارہی ہے اورحسوا کو ہر قسم کی مدد فراہم کر رہی ہے تاکہ ایک کم لاگت کی خودکار مصنوعی ٹانگ تیار ہوسکے ۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ جامعات کا کام صرف تعلیم دینا ہی نہیں ہے بلکہ جامعات معاشرے کا ایک اہم ترین جُز ہیں جو معاشرے کی ضرورت کو پورا کر تی ہیں ۔ سرسید یونیورسٹی دیگر اداروں کے ساتھ تعاون اور اشتراک کے ذریعے مختلف شعبوں میں متعدد پروجیکٹس پر کام کر رہی ہے جس سے لوگ مستفید ہوسکیں ۔

سرسید یونیورسٹی کے قابل اور تجربہ کار اساتذہ فکرِ سرسید کے مطابق معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے طلباء کو جدید تعلیم کے ساتھ ایسی تربیت سے آراستہ کر رہے ہیں جس کی بنیاد اخلاقیات پرہے ۔

حسوا کے اکبر اسماعیل نے کہا کہ صرف زندہ رہنا ہی نہیں بلکہ ایک صحتمند اور خوشگوار زندگی گزارنے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے ۔ ہمارا ادارہ ضرورتمندوں کو مصنوعی اعضاء مفت فراہم کرتا ہے ۔ حسوا اب تک اٹھارہ ہزار مصنوعی ہاتھ پیر ضرورتمندوں کو مفت فراہم کرچکی ہے ۔ مصنوعی ہاتھ پیر کا حرکت پذیر ہونا ہی سب سے زیادہ اہم ہے ۔ وہ اپنی زندگی کا دوبارہ آغاز کر سکتے ہیں اور دوسروں پر انحصار کم کر سکتے ہیں اور ان کی خود مختاری اور خودانحصاری میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔

شعبہ بائیومیڈیکل انجینئرنگ کے چیئرپرسن انجینئر ڈاکٹر سرمد شمس نے بتایا کہ سرسید یونیورسٹی کی ٹیکنیکل ٹیم ایک ایسی ہلکے وزن کی مصنوعی ٹانگ کی تیاری میں مصروف ہے جسے آسانی سے لگا سکیں اور جو آسانی سے حرکت کر سکے ۔ اب مصنوعی ہاتھ سے آپ ایک خالی گلاس اٹھا سکتے ہیں مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب مصنوعی ہاتھ سے چائے کی پیالی اٹھا کر منہ تک لے جایا جاسکے ۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment