اتوار, 16 مئی 2021


سرسید یونیورسٹی کے زیرِاہتمام ایک روح پرورسیرت النبیﷺ کانفرنس کاانعقاد

کراچی: سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام ایک روح پرور سیرت النبی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے سیرتِ طیبہ ﷺ کے حوالے سے واقعہ معراج کے مختلف پہلوءوں کو اجا گر کیا ۔ جب کہ محمود الحسن اشرفی نے قصیدہ بردہ شریف پیش کیا اور پروفیسر ڈاکٹرعمادالحق نے دعا کروائی ۔ جلسے میں چانسلر جاوید انوار، رجسٹرار سید سرفراز علی کے علاوہ اموبا کے عہدیداران اور ممبران سمیت طلباء، اساتذہ و دیگر افراد کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے پروفیسر اور معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے سفرِ اسراء کے اسرار و رموز اوراس سے حاصل ہونے والے علوم جاننے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ معراج ہجرت سے ایک سال قبل واقع ہوا ۔ اللہ ہر نبی کو جو معجزہ عطا فرماتا ہے وہ ہر دور کے انسانوں کے لیے ایک پیغام رکھتا ہے اور اس معجزے کے ساتھ ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے ۔ حضرت داءود علیہ السلام کے دستِ مبارک میں اللہ نے لوہے کو نرم کردیا ۔ انسانیت کو سکھایا گیاکہ لوہے کو کس طرح نرم کرکے ذرہ اور اوزار بنائے جاسکتے ہیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہوا میں اڑ کر دکھایا کہ انسان ہوا میں اڑ سکتا ہے ۔ یہ تمام انبیاء کے معجزات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کس عہد سے انسان کو اللہ تبارک تعالیٰ علم و معرفت کے نئے دروازے کھول کر علم کی نئی راہ دکھا رہا ہے ۔ حضور کا سفر اسراء اور معراج دنیا کو یہ درس بھی دیتا ہے کہ تم ذمین میں اپنی مسافت کے ذراءع تیز بھی کر سکتے ہو اور خلاء میں بھی سفر کر سکتے ہو ۔

پروفیسر ڈاکٹر عمیر محمود نے کہا کہ بیت اللہ ہو یا مسجد اقصیٰ دونوں کی نگرانی اللہ کے آخری نبی کے پاس ہے ۔ بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہونے والے مراکز نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ کی عبادت کے مراکز ہیں ۔ جس شخص نے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی اللہ اسے ایک کے بدلے پچاس ہزار نمازوں کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔ حضور نے معراج میں اللہ کی ایک نہیں بلکہ بہت بڑی بڑی نشانیوں کو ملاحظہ فرمایا ہے ۔ معراج کے تین حصے ہیں ۔ یہودیوں کی دیوارِ گریہ وہ جگہ ہے جہاں پر براق آکر اترا تھا اور جہاں سے حضور معراج کے لیے روانہ ہوئے ۔ آسمانوں میں سات راستے بنائے گئے ہیں ۔ ذمین سے فرشتے اللہ کی بارگاہ میں ایک دن میں پہنچتے ہیں اورفرشتوں کا یہ ایک دن ہمارے پچاس ہزار سالوں کے برابر ہے ۔ فرشتے نوری مخلوق ہیں ۔ تاہم معراج کے لیے روانہ ہونے سے قبل حضور نے عشاء کی نماز تمام انبیاء کی امامت کرتے ہوئے ادا فرمائی اور واپسی پر نماز فجرامامت کے ساتھ عطا فرمائی ۔ علم اس لیے عطا کیا گیا تاکہ انسان فتنوں سے محفوظ رہے ۔ اسلام صرف اسلام ہے ۔ اس کے ساتھ سابقے اور لاحقے نہیں ہونا چاہئے ۔ ہم اعتدال والی امت ہیں اوراعتدال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دین کی شکل کو مسخ کرتے جائیں ۔

حضور ﷺ کی حیات طیبہ کی صفات کو اجاگر کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ سرور کائنات خاتم النبین حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پُرنور شخصیت اس کائنات میں ایک ایسے درخشاں آفتاب کی مانندہےجس نے انسانی تاریخ کا رخ موڑ دیا ۔ نبی کی صفت یہ ہے کہ وہ ناممکنات کو ممکنات میں بدل دے اور محمد ﷺ کا معجزہ یہ تھا کہ انھوں نے ایک بدترین جہالت میں ڈوبے معاشرے کو علم سے منور کردیا اور عدل و مساوات کی بنیاد پر مدنیہ میں ایک ایسی فلاحی اسلامی ریاست قائم کی جس نے انسانی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا ۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ آپ ﷺ کی زندگی قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی ۔ اگر ہم اپنی فلاح چاہتے ہیں تو ہ میں دین کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہوگا ۔ اللہ رب العزت ہ میں حضور ﷺکی طرف سے دی گئی تعلیمات کی روشنی میں اپنے عادات و اخلاق کو بہتر بنانے میں مدد دے ۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment