اتوار, 27 نومبر 2022


لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں نئی جیلوں کی تعمیر نہ ہونے کے خلاف دائر درخواست پر ہوم سیکرٹری پنجاب سے جواب طلب کر لیا۔۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے کیس کی سماعت شروع کی۔ عدالت کے سامنے درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ پنجاب میں نئی جیلوں کی تعمیر کا منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے جس سے جیلوں میں مقررہ تعداد اور سکت سے زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا ہے جو آئین کے آرٹیکل25 کی خلاف ورزی ہے۔۔ سماعت کے دوران ڈی آئی جی جیل خانہ جات نے موقف پیش کیا کہ پنجاب بھر میں 6 نئی جیلیں تعمیر ہو چکی ہیں جس کے لیے پولیس اہلکاروں سمیت دیگر اسٹاف کو ٹریننگ دینے کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے،، ایک ماہ بعد نئی 6 جیلیں باقاعدہ کام کرنے لگیں گی اور ان  میں قیدیوں کو منتقل کردیا جائے گا جبکہ دیگر جیلوں کی تعمیر کے حوالے سے کام جاری ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت15 روز تک ملتوی کرتے ہوئے زیر تعمیر جیلوں سے متعلق جواب طلب کر لیا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment