ھفتہ, 20 اگست 2022


محکمہ تعلیم سندھ نےملک میں پہلی بارنان فارمل ایجوکیشن کانصاب مرتب کرلیا

سندھ : حکومت سندھ کی جانب سے صوبے کی کثیر الثقافتی و کثیرالجہتی تاریخ و تہذیب کو نصاب کا حصہ بنانے میں آج ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے اور آج محکمہ تعلیم و خواندگی، محکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات اور یونیسکو پاکستان کے اشتراک سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں سندھ کے سرکاری اسکولوں کے نصاب میں کلچر و ہیریٹیج کے مضامین و عنوانات شامل کرنے کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ہے.

جس میں وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ محکمہ تعلیم و ثقافت کے ڈائریکٹرز، نامور تعلیمی ماہرین، ٹیکسٹ بک رائٹرز،سول سوسائٹی کے نمائندگان،یونیسکو پاکستان،جائیکہ اور حکومتی محکموں کے اعلیٰ عملداران نے شرکت کی.

س حوالے سے ورکشاپ میں مندرجہ ذیل سیشنز منعقد کیے گئے جن میں ثقافتی ورثے کی تعلیم میں یونیسکو کی فکر و اقدامات،سندھ صوبے کے سرکاری پرائمری، مڈل اور سیکنڈری اسکولز کا کے موجودہ نصاب کا جائزہ اور اس میں فکری قلت، منصوبہ بندی کا فقدان اور ان کے عملدآمد کرانے میں درپیش چینلجز اور ان کے حل کے لیے تجاویز،پالیسی میں تبدیلی اور درپیش چیلینجز کے اساتذہ و طلبا پر اثرات،کثیرالجہتی میں اتحاد: انصاف، عقلیت پسندی اور ہم آہنگ پر مبنی معاشرے کی تعمیر میں درسی کتب و نصاب کا کردار اور دیگر موضوعات پر پینل ڈسکشنز منعقد کیے گئے.

اس موقع پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے اور سندھ نے آج یہ ثابت کردیا کہ اس صوبے میں رہنے والے تمام فکر و ثقافت کے لوگ اور ان کی ثقافتی رسوم اور تہذیبی تخشص اس صوبے کی تاریخی میراث ہے اور آج اس ورکشاپ سے ہم یونیسکو اور تعلیمی ماہرین کے ساتھ ملکر نصاب میں کلچر و ہیریٹیج کے عنوانات و مضامین شامل کرنے جا رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ نصاب کے معاملے میں سندھ پہلے ہی دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہت آگے ہے اور ہم نے ملک میں سب سے پہلے نان فارمل ایجوکیشن کا نصاب مرتب کردیا اور اس کے بعد سندھ نے ہی سب سے پہلے ارلی چائلڈہوڈ ایجوکیشن کا نصاب مرتب کیا اور آج کلچر اور ہیریٹیج کو نصاب کا حصہ بنانے کے معاملے میں سندھ لیڈ کر رہا ہے. انہوں نے کہا کہ موھین جو دڑو کی صدسالہ تقریبات یونیسکو کے ہیڈکوارٹر پیرس میں منعقد کرنے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے بھی یونیسکو کے ساتھ
بات چیت جاری ہے.

اس موقع پر نامور رائٹر و دانشور جامی چانڈیو نے مختلف سیشنز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ فکری طور پر بھی بہت ہی زرخیز خطہ ہے اور سندھ کی ثقافت و تہذیب اس خطے کی اساس ہے. آج کے ورکشاپ میں پرائمری، مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کے نصاب کا جائزہ لیا گیا. جبکہ آئندہ اجلاس میں سندھ کالجوں کا نصاب کا بھی جائزہ لیا جائے گا.

۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment