پیر, 12 اپریل 2021


آئی پی ایل کا حصہ نہ ہونے پر عرفان پٹھان کے اعتراضات

 

 

ایمز ٹی وی (اسپورٹس) آئی پی ایل 2017 کیلیے کسی بھی ٹیم کی جانب سے منتخب نہ کیے جانے پر عرفان پٹھان کو سخت ٹھیس پہنچی ہے جس کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کے نام جذباتی خط میں کیا ہے۔آل رﺅانڈر نے خط میں لکھا ہے کہ 2010 میں کمر میں 5 فریکچرز کے بعد ڈاکٹرز نے کہا کہ اب شاید تم کبھی دوبارہ کرکٹ نہیں کھیل سکو گے اور تمھارے دیرینہ خواب شاید ادھورے رہیں گے جس پر میں نے کہا کہ ہر طرح کا درد برداشت کرنے کی ہمت ہے لیکن اپنے ملک کےلئے کرکٹ نہ کھیل پانے کا دکھ نہیں سہہ سکتا۔
اس کے بعد سخت محنت کرتے ہوئے نہ صرف میں دوبارہ کرکٹ کھیلنے کے قابل ہوا بلکہ بھارتی ٹیم میں جگہ بنانے میں بھی کامیاب رہا۔ اپنے کیریئر اور زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ہے لیکن کبھی ہار نہیں مانی۔ یہی میری خاصیت ہے جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی۔ اِس وقت بھی مجھے ایک چیلنج درپیش ہے اور میں آپ کی دعاﺅں اور نیک خواہشات کے ساتھ ایک بار پھر سرخرو ٹھہروں گا۔ اپنے مداحواں کا شکر گزار ہوں جو اب تک مجھے سپورٹ کر رہے ہیں۔گجرات سے تعلق رکھنے والے آل راﺅنڈر آئی پی ایل کے کئی ایڈیشنز میں مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر چکے ہیں لیکن 2017 کی نیلامی میں انہیں کسی ٹیم کی جانب سے منتخب نہیں کیا گیا۔
گزشتہ سیزن میں انجریز کے سبب وہ زیادہ تر میچز نہیں کھیل پائے تھے لیکن انہوں نے سید مصطفی علی ٹرافی میں 6.28 کی اوسط سے 5 وکٹیں حاصل کیں۔ آئی پی ایل کی نیلامی میں 50 لاکھ کی بنیادی قیمت پر عرفان پٹھان کو منتخب کیا جا سکتا تھا لیکن ان کی پے در پے انجریز اور ڈومیسٹک کرکٹ میں غیریقینی فارم کی وجہ سے فرنچائزز نے ان کے انتخاب سے گریز کیا۔ 32 سالہ عرفان پٹھان اب بھی ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں اور ایک بار پھر کم بیک کیلیے پرعزم ہیں۔
 

 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment