بدھ, 17 اگست 2022


سرسیدیونیورسٹی کےزیرِاہتمام ٹریفک قوانین کےموضوع پرسیمینارکاانعقاد

کراچی: سرسیدیونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کےمرکزمشاورت ورہنمائی کے زیرِاہتمام ٹریفک قوانین اور ضابطوں کے بارے میں آگاہی کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

جس کے مہمانِ خصوصی کراچی ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی، احمد نواز چیمہ تھے ۔اس موقع پر معلوماتی پریزنٹیشن دیتے ہوئے، ڈی آئی جی، کراچی ٹریفک پولیس، احمد نواز چیمہ نے کہاکہ ٹریفک پولیس کی مجموعی منظور شدہ نفری 10 ہزار ہے اور اس وقت ٹریفک پولیس میں 6 ہزار اہلکار تعینات ہیں جو کُل تعداد کا 60 فیصد بنتے ہیں ۔ اس وقت 40 فیصد ملازمین کی کمی ہے ۔ پولیس کی زیادہ تر نفری ریڈ زون، کرکٹ میچ، الیکشن، اور ملک کی اہم شخصیات کے پروٹوکول پر تعینات کردی جاتی ہے ۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے جلد ہی نئی تقرریوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔

کراچی ملک کا معاشی اور تجارتی مرکز اور سب سے بڑا شہر ہے ۔ جہاں کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور اسی لحاظ سے گاڑیوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے شہرکا بنیادی ڈھانچہ یکسر تبدیل ہوتا جارہا ہے ۔انھوں نے کہا کہ عوام میں ٹریفک قوانین اور ضابطوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے محکمہ ٹریفک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک جامعہ تشہیری مہم چلا رہا ہے اور اس ضمن میں تعلیمی اداروں میں بھی سمینارز کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیابشمول ایف ایم ریڈیو کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔

محکمہ پولیس کے پاس ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی موقع پر ریکارڈنگ کے لیے باڈی کیمرے موجود ہیں ۔ ہم آئی ٹی ماہرین اور سافٹ وئیر ہاءوسز سے بھی بات چیت کر رہے ہیں کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر اورچالان کے اجراء کو شفاف بنانے کے لیے ایک بہترین سافٹ وئیربنایا جائے ۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ چونکہ ہمارے ملک میں ڈرائیونگ کے قوانین پر شاذ و نادر ہی عمل کیا جاتا ہے، اس لیے جامعات کو چاہئے کہ وہ محکمہ ٹریفک سے مل کر ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے کام کریں تاکہ نوجوانوں میں ٹریفک کے قوانین کے بارے میں آگاہی پیدا کی جاسکے ۔ کراچی میں بے تحاشہ ٹریفک مسائل کا سبب بن رہا ہے ۔ ٹریفک کو منظم کرنے کے اقدامات کے باوجود سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔رجسٹرار سید سرفراز علی نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے اور ٹریفک قوانین سے روگردانی کے باعث حادثات میں متعدد انسانی جانیں ضائع ہوئیں ۔ جان لیوا حادثات سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین کی پابندی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ چونکہ ہمارے ملک میں ڈرائیونگ کے قوانین پر شاذ و نادر ہی عمل کیا جاتا ہے، اس لیے جامعات کو چاہئے کہ وہ محکمہ ٹریفک سے مل کر ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے کام کریں تاکہ نوجوانوں میں ٹریفک کے قوانین کے بارے میں آگاہی پیدا کی جاسکے ۔

کراچی میں بے تحاشہ ٹریفک مسائل کا سبب بن رہا ہے ۔ ٹریفک کو منظم کرنے کے اقدامات کے باوجود سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔رجسٹرار سید سرفراز علی نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے اور ٹریفک قوانین سے روگردانی کے باعث حادثات میں متعدد انسانی جانیں ضائع ہوئیں ۔ جان لیوا حادثات سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین کی پابندی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔سیمینار کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے رجسٹرار سید سرفراز علی اور جناب سراج خلجی کے ہمراہ ڈی آئی جی ٹریفک کو سوونیئر پیش کیا ۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment