ھفتہ, 13 جولائی 2024


سرکاری جامعات میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لئےعمل کوجلدمکمل کرنےکا فیصلہ

پشاورـ : نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت سرکاری جامعات کے مسائل و معاملات سے متعلق ایک اہم اجلاس گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔

متعلقہ صوبائی وزراء اور انتظامی سیکرٹریوں کے علاوہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئر مین اور دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں سرکاری جامعات کے مالی مسائل اور انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سرکاری جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات کو در پیش مالی اور انتظامی مسائل کو حل کرنے کے لئے مل جل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس میں حکومت کی طرف سے جامعات کو دی جانے والی گرانٹس کو ان کے بہتر مالی نظم وضبط سے مشروط کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ سرکاری جامعات میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لئے عمل کو جلد سے جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

علاوہ ازیں کم انرولمنٹ والے یو نیورسٹی کیمپسز کو ایک دوسرے کے ساتھ ضم کرنے کی تجویز سے اصولی اتفاق کیا گیا۔ اسی طرح کا لجوں اور جامعات کے روایتی کورسز کی جگہ جدید مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم اہنگ کورسز متعارف کرانے اور جامعات میں تعلیمی عمل پر بطور عملدرآمد یقینی بنانے پر بھی اتفاق پایا گیا۔

اservice" "ssential اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعات کو در پیش مالی بحران ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس لئے جامعات کو اس بحران سے نکالنے کے لئے ایک جامع اور کل وقتی حکمت عملی کی ضرورت ہے ، ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے آگے بڑھ رہی ہے۔ نگران وزیر اعلی نے واضح کیا کہ جامعات کو مالی طور پرمستحکم اور خود انحصار بنانے کے لئے قابل عمل فنانشل پلانز تیار کر کے ان پر عملدرآمد کرنا ہوگا تعلیم کا شعبہ نگران صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اعلی تعلیم کے شعبے کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات میں روایتی تعلیم کی بجائے مارکیٹ ہیڈ کورسز پڑھانے کی ضرورت

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment