جمعرات, 25 جولائی 2024


کراچی میں فائرنگ سے خاتون پروفیسر،متحدہ کے کارکن سمیت5افراد جاں بحق  

ایمزٹی وی: مبینہ ٹائون تھانے کے علاقے یونیورسٹی روڈ این ای ڈی یونیورسٹی کے سامنے واقع شیل پیٹرول پمپ کے قریب موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح نے فائرنگ کرکے کار سوار خاتون کو زخمی کردیا جنھیں تشویشناک حالت میں قریب واقع دارالصحت اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ خاتون دوران سفر ہی دم توڑ گئیں، ایس پی گلشن اقبال ڈویژن عابد قائم خانی نے ایکسپریس بتایا کہ مقتولہ کی شناخت 55 سالہ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ زوجہ خالد کے نام سے کر لی گئی۔

مقتولہ گلستان جوہر بلاک 14 میں واقع پرل کانٹینینٹل بیکری کے قریب رہائش پذیر تھیں۔ ڈی آئی جی ایسٹ منیر احمد شیخ نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتولہ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ خالد ڈائو یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں ملازمت کرتی تھیں اور ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد گلستان جوہر میں واقع اپنی رہائش گاہ جا رہی تھیں، یونیورسٹی روڈ پر موٹرسائیکل پر سوار3 ملزمان نے انھیں فائرنگ کرکے نشانہ بنا ڈالا، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ مقتولہ کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کیا گیا کیونکہ مقتولہ کی گاڑی میں ان کا موبائل فون ، پرس اور دیگر ضروری سامان موجود تھا۔ پی آئی بی کالونی تھانے کے علاقے لیاری ایکسپریس وے 14نمبر پلاٹ کے قریب سے پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک شخص کی لاش ملی جسے نامعلوم ملزمان نے چہرے پر فائرنگ کر کے قتل کیا، پی آئی بی پولیس کے مطابقمقتول کے پاس سے کوئی ایسی چیز برآمد نہیں ہو ئی جس کی مدد سے اس کی شناخت ممکن ہو سکے دوسری جانب جب ایس ایچ او پی آئی بی مقصود رضا سے رابطہ کیا گیا تو وہ واقعے سے لاعلم تھے۔

اتوار اور پیر کے شب کورنگی صنعتی ایریا تھانے کے علاقے سیکٹر30 اﷲ والا ٹائون میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص زخمی ہوگیا جسے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ کچھ گھنٹے تک موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دوران علاج دم توڑ گیا، ایس ایچ او آفتاب رند نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتولکی شناخت 26 سالہ ذیشان عرف شانی کے نام کر لی گئی، مقتول صنعتی ایریا میں واقع کے ڈی اے فلیٹس میں رہائش پذیر تھا، مقتول کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا اور مقتول اتوار کی شب اپنے دوست ساجد کے ہمراہ شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا کہ اﷲ والا ٹائون میں موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھے دوست نے اسے فائرنگ کر کے زخمی کردیا اور فرار ہو گیا جس کے بعد زخمی ذیشان نے اپنے بھائی کو موبائل فون کر کے واقعے سے متعلق اطلاع کردی

 تھی۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment