ھفتہ, 20 اگست 2022


سندھ بھرمیں قائم مقام وائس چانسلرکی تعداد بڑھ کر 12 ہوگئی

کراچی: سندھ میں اعلیٰ تعلیم کو نظر انداز کرنے اور اہمیت نہ دینے کے باعث ایک اور قائم مقام وائس چانسلر کا اضافہ ہوگیا ہےجس کے بعدصوبے میں قائم مقام وائس چانسلر کی تعداد بڑھ کر 12 ہوگئی ہے۔

سندھ بھرکے تعلیمی بورڈز میں بھی ایڈہاک ازم عروج پر ہے اور انتخابات کے باوجود 5تعلیمی بورڈزمستقل چیئرمین سے محروم ہیں ۔

بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ خیرپورکے وائس چانسلر ڈاکٹر مدد علی شاہ کی پہلی مدت ختم ہونے کے بعد ان کو دوسری مدت نہیں دی گئی۔ محکمہ بورڈز و جامعات کے سیکشن افسر کمال احمد کے مطابق اسی یونیورسٹی کے کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نور احمد شیخ کو وائس چانسلر کے عہدے کی ذمہ داری دیدی گئی ہے۔

اس وقت سندھ میں جامعہ کراچی، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، دائود انجینئرنگ یونیورسٹی، لیاری یونیورسٹی، انیمل یونیورسٹی سکرنڈ، لاڑکانہ میڈیکل یونیورسٹی، مہران انجینئرنگ یونیورسٹی، شہید اللہ بخش یونیورسٹی جامشورو، آئی بی اے سکھر، ویمن یونیورسٹی سکھر، اروڑ یونیورسٹی سکھر اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی خیر پور مستقل وائس چانسلر سے محروم ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment