پیر, 27 مئی 2024

 

ایمزٹی وی(استنبول)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بیت المقدس کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے استنبول پہنچ گئے۔
سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی او آئی سی کے غیر معمولی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے استنبول پہنچ گئے ہیں جب کہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ سربراہ اجلاس میں امریکا کی جانب سے اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا جب کہ اسلامی تعاون تنظیم کے رہنما صورتحال سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔
وزیراعظم فلسطین کےعوام کے لئے پاکستان کے عوام اور حکومت کی غیرمتزلزل حمایت کے جذبات پہنچائیں گے اور وہ اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیں گے کہ بیت المقدس کے معاملے پر مشترکہ مؤقف اپنایا جائے، امریکی انتظامیہ سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کے لئے کہا جائے، سربراہ اجلاس سے قبل وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوگا جس میں وزیر خارجہ خواحہ محمد آصف شرکت کریں گے۔

 

 

 

ایمزٹی وی(راولپنڈی)آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے حملے میں پاک فوج کے شہید ہونے والے دوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج جوہم آزاد ہیں اپنے بیٹوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہیں، آزادی مفت میں نہیں ملتی بلکہ اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے، ہمارے بہادر بیٹے آزاد دھرتی کے لیے قربانیاں دیتے ہیں جب کہ وطن کیلئے جانیں قربان کرنے والوں کوسلام پیش کرتے ہیں۔
 
دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی شمالی وزیرستان میں فوجی گاڑی پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے وطن عزیزکی خاطراپنی قیمتی جانوں کی قربانی دی، قیمتی انسانی جانوں کی قربانیاں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، شہداء کی قربانیوں کا کوئی متبادل نہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قوم وطن دشمنوں کیخلاف افواج پاکستان کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کریگی، پاکستان انشاء اللہ دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ کر دے گا اور ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں، اللہ دہشت گردوں کو جلد نیست ونابود کرے۔

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد) تحریک لبیک کے دھرنے کے خلاف اسلام آباد انتظامیہ کے آپریشن کے بعد بگڑتی صورتحال پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی حرکت میں آ گئے ہیں جنہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے رابطہ کر کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا مشورہ دیدیا ہے۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ہونے والے پیغام میں بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے انہیں دھرنے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا مشورہ دیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دونوں اطراف سے تشدد کو روکا جائے کیونکہ تشدد قومی مفاد اور ہم آہنگی کیلئے ٹھیک نہیں ہے

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کو شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کے مزید راز فاش ہونے کے ڈر سے نہیں ہٹایا جارہا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نواز شریف کا کٹھ پتلی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ نواز شریف کا کٹھ پتلی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی شریف مافیا کے فرنٹ مین اور قانون سے بھاگے ہوئے شخص کو عہدے سے نہیں ہٹا سکتا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ شریف مافیا کے دباؤ کے باعث وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نہیں ہٹایا جا رہا، کیونکہ شریف مافیا کو اسحاق ڈار کی جانب سے منی لانڈرنگ کے مزید انکشافات کا ڈر ہے۔
 
تحریک انصاف کے چیرمین نے کہا کہ اسحاق ڈار کرپشن اور منی لانڈرنگ جیسے کئی مقدمات میں مطلوب مفرور ملزم ہے، اسحاق ڈار نے پہلے بھی نواز شریف کی منی لانڈرنگ کے بارے میں انکشافات کیے تھے اور اب بھی شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کے مزید راز فاش ہونے کے ڈر سے انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا جارہا۔

 

ایمزٹی وی (اسلام آباد)وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے استعفا نہیں دیا، علالت کے باعث وزارت خزانہ کا قلم دان وزیراعظم نے سنبھال لیا۔
ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی معاملات احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ ای سی ایل میں اسحاق ڈار کا نام ڈالنا ہے یا نہیں؟ اس کا جائزہ عدالتی احکامات آنے کے بعد ہی لیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے اسحاق ڈار کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں نہ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کی علالت کے باعث وزارت خزانہ کا قلمدان وزیر اعظم نے سنبھال کر احسن طریقے سے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں محض الزام تراشی کی بنیاد پر ای سی ایل میں نام شامل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر اسحاق ڈار کے خلاف سنگین کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق احتساب عدالت کے اسحاق ڈار کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ بھی زیر بحث آیا۔
ترجمان وزیر اعظم مصدق ملک نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسحاق ڈار کی علالت کے باعث رولز کے تحت وزارت خزانہ کا قلمدان پہلے ہی وزیر اعظم کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خزانہ سے متعلق تمام معاملات وزیر اعظم احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی روزانہ کی بنیاد پر خزانہ سے متعلق تمام امور پر بریفنگ لے رہے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ وزرا پر الزامات لگائے جاتے ہیں، یوں تو ساری کابینہ کا نام ای سی ایل میں آ جائے گا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے عدالتی احکامات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ اسحاق ڈارکوعہدے سے ہٹانے کے لیے سوچ بچارشروع کردی گئی ہے۔
زرائع کی رپورٹ کے مطابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے جلد وطن واپسی کے امکانات بہت کم ہوتے جارہے ہیں، جس کے باعث وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیرخزانہ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مختلف پہلوؤں پرغورکررہے ہیں۔ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے اس حوالے سے ڈپٹی وزیرخزانہ تعینات کرنے سمیت نمایاں لوگوں پرمشتمل اقتصادی مشاورتی کونسل بنانے پربھی غور کیا جارہا ہے جب کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیر خزانہ کا عہدہ اپنے پاس بھی رکھ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ کے باہرجانے کے باعث متعدد اہم فیصلے رک گئے ہیں جن میں تاخیرہورہی ہے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے پاس ایک دوسرا آپشن یہ بھی ہے کہ وہ وزیرمملکت برائے خزانہ کے طورپرکسی کو تعینات کریں، جس کے لیے رانا افضل خان کا نام سرفہرست ہے جو پچھلے 4 سال سے پارلیمنٹ سیکریٹری برائے خزانہ ہیں۔ ایک اور امکان مشیر کی تقرری کا بھی ہے جس کے ساتھ ایڈوائزری کمیٹی ہوگی جو 3 سے 4 لوگوں پرمبنی ہوگی جو ملکی معاشی صورتحال پروزیراعظم کو بریفنگ دیا کرے گی۔
واضح رہے کہ 20 روز قبل وزیر اعظم نے خصوصی طیارے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیجا تھا جن کے واپسی کے امکانات دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں۔

 

 

ایمزٹی وی(کوئٹہ)وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بلوچستان کے لیے 10 سالہ پیکج تیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے آدھے وسائل وفاق فراہم کرے گا۔
زرائع کے مطابق کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے حکام کو بلوچستان کے لیے 10سالہ پیکج تیار کرنے کی ہدایت کردی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے لیے آئندہ 10 برسوں کا ترقیاتی پیکج تیار کیا جائے جس میں گیس، بجلی اور پانی کی اسکیموں پر کام کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبے کے ہر ضلع میں ایل پی جی پلانٹ لگ رہا ہے، ہر ضلع میں اسکولوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ گیس، بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، ترقیاتی پیکیج کا آدھا فنڈ وفاق اورآدھا فنڈ صوبائی حکومت دے گی اور کوشش ہوگی ہر دوسرے ماہ کوئٹہ آکر اس عمل کا جائزہ لیا جائے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکمرانی آئین کے مطابق ہوتی ہے اور قانون کی بالا دستی ہونی چاہیے اس طرح جمہوریت چلتی رہے گی، حکومت جون 2018 میں مدت پوری کرے گی۔
قبل ازیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وفاقی وزیر دوستین خان ڈومکی اور قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ کے ہمراہ کوئٹہ پہنچے جہاں ان سے گورنر محمد خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری نے ملاقات کی، جس کے بعد وزیر اعظم نے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔ اس کے علاوہ شاہد خاقان عباسی سے صوبائی کابینہ کے ارکان کے علاوہ دیگر اکابرین اور ہزارہ برادری کے وفد نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

 

 

ایمزٹی وی(کوئٹہ)وزیر اعظم شاہد خان عباسی ایک روزہ دورے پر کوئٹہ روانہ ہو گئے ہیں، دوران کے دوران گورنر اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کریں گے، صوبائی کابینہ کے ممبران اور ہزارہ کمیونٹی کے وفد سے بھی ملاقات کریں گے 

 

بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاسوں کی صدرات کریں گے۔

 

 

 
ایمزٹی وی(اسلام آباد)وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو مسلسل غیرحاضری کی وجہ سے مشترکہ مفادات کونسل کی رکنیت سے فارغ کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نو کی گئی ہے اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی رکنیت ختم کردی گئی ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین نے وزیراعظم کی تجویز پر وزیرخزانہ کو رکنیت سے ہٹانے کی منظوری دے دی ہے۔ اسحاق ڈار کو ہٹانے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا جب کہ ان کی جگہ اب وزیرداخلہ احسن اقبال مشترکہ مفادات کونسل میں وفاق کی نمائندگی کریں گے۔
واضح رہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آج شام 4 بجے ہوگا۔ اسحاق ڈار علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں اور انہیں مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے مشترکہ مفادات کونسل کی رکنیت سے ہٹایا گیا ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(تونسہ شریف)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ انسانوں اور جانوروں کے معاشرے میں سب سے بڑا فرق انصاف کا ہوتا ہے۔
تونسہ شریف میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جانوروں کے معاشرے میں عدل و انصاف نہیں ہوتا، جو کمزور ہوتا ہے وہ بھوکا مرجاتا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’نواز شریف جاچکے ہیں وہ اب واپس نہیں آئیں گے اور اب تک حدیبیہ پیپر ملز کا کیس بھی کھل گیا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ انسانوں کےمعاشرے میں کوئی طاقتور نہیں کہتا کہ مجھے کیوں نکالا؟ بڑا چور اربوں کی چوری کرتا ہے اور وہ اتنی بڑی رقم ملک میں نہیں رکھ سکتا کیوں کہ وہ پکڑا جائے گا لہٰذا وہ اس پیسے کو باہر بھیج دیتا ہے۔
جو پیشہ پاکستان میں خرچ ہونا ہوتا ہے وہ باہر چلاجاتا ہے اور اس طرح ملازمت کے مواقع بھی بیرون ملک زیادہ ہوتے ہیں اگر یہی پیسہ پاکستان میں خرچ ہو تو یہاں بھی لوگوں کو ملازمت کے مواقع ملیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بڑے لوگوں سے ٹیکس اکھٹا کرے گی، بڑے چوروں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالے گی، ان کا پیسہ واپس لائے گی۔
عمران خان نے ایک بار پھر قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہ اکہ اس ملک میں فی الحال کوئی حکومت نہیں ہے، حکومتی وزراء ملک کا 300 ارب روپیہ چوری کرنے والے شخص کو 40 گاڑیوں کا پروٹوکول دے رہے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے استفسار کیا کہ آپ کی اخلاقایات کہاں گئیں؟ آپ قوم کے مجرم کو کہتے ہیں کہ وہ اب بھی آپ کے وزیراعظم ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یا تو آپ کی اخلاقیات مر گئی ہے یا پھر آپ بھی ان کی طرح کرپٹ ہو۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف ان دنوں مسلسل جلسے کررہی ہے جو پی ٹی آئی کی آئندہ انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
 ا

 

Page 7 of 10