پیر, 27 مئی 2024

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو مسترد کردیا گیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا، وزیردفاع انجینئر خرم دستگیر، مشیر قومی سلامتی ناصرجنجوعہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر غور و خوض کیا گیا۔
بعدازاں وزیراعظم ہاؤس سے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری ہوا۔ اجلاس کے شرکاء نے الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غلط تصورات کی بنیاد پر اور حقائق سے ہٹ کر رائے قائم کرنا بدقسمتی ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اتفاق کیا کہ ممبئی حملوں کے بارے میں نواز شریف کا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔
شرکاء نے کہا کہ ممبئی حملوں کے کیس میں تاخیر کا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے، اجمل قصاب تک رسائی دینے سے انکار اور اس کی عجلت میں پھانسی کے باعث کیس مکمل نہ ہوسکا، پاکستان بھارت سے کلبھوشن یادیو اور سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ پر تعاون کا بھی منتظر ہے، پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اجلاس میں اخباری انٹرویو میں نواز شریف کے جھوٹے دعوؤں اور الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ممبئی حملوں کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والے بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا ہے جس میں معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایک انگریزی اخبارکوانٹرویو میں سابق وزیراعظم اورمسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نوازشریف نے کہا تھا کہ سرحد پار جا کر150 لوگوں کوقتل کردینا قابل قبول نہیں، عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیرریاستی عناصرکہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انھیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کوقتل کردیں۔

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں نوازشریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر غورکیا گیا۔
میڈیا ذ رائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان اورچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ، ڈی جی انٹرسروسزانٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی ملٹری آپریشنزمیجرجنرل ساحرشمشاد مرزا سمیت وزیردفاع انجینئرخرم دستگیر، مشیر قومی سلامتی ناصرجنجوعہ نے بھی شرکت کی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اجلاس میں ممبئی حملوں کے حوالے سے میڈیا پرچلنے والے گمراہ کن بیانات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایک انگریزی اخبارکوانٹرویو میں سابق وزیراعظم اورمسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نوازشریف نے کہا تھا کہ سرحد پار جا کر150 لوگوں کوقتل کردینا قابل قبول نہیں، عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیرریاستی عناصرکہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انھیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کوقتل کردیں۔
 

 

 

ایمزٹی وی(لاہور)سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کی زیر صدارت جاتی امراءمیں مسلم لیگ ن کااہم اجلاس ہوا ،جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،وزیراعلیٰ شہبازشریف، پرویزرشید،سعدرفیق، مریم نواز، حمزہ شہباز، ڈاکٹر آصف کرمانی اور دیگر رہنما شریک ہوئے اور ناراض پارٹی کارکنوں اورعہدیداروں کوفوری منانے کاٹاسک حمزہ شہبازکو دے دیا گیا ۔
تفصیلات کے مطابق نوازشریف کی زیرصدارت جاتی امرا میں ن لیگ کے بڑوں کی بیٹھک ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورتحال، نیب کیسز ودیگر امورپربات چیت ہوئی ، اجلاس میں مسلم لیگ ن کاعوامی رابطہ مہم مزیدتیز کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔پارٹی قیادت نے ناراض پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کوفوری منانے کاٹاسک حمزہ شہباز،اشفاق سروراورملک ندیم کامران کودے دیا۔
یاد رہے کہ اس سے یہ خبریں آئی تھی کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کوناراض پارٹی رہنماﺅں کو منانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)وزیراعظم نے ٹنڈوجام گیس پروسیسنگ فیسیلٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو وعدے کیے انہیں پورا کیا جارہاہے ،اہم قومی منصوبے کی تکمیل اور افتتاح پر خوشی ہے ۔منصوبو ں کی تکمیل نوازشریف اورن لیگ کے وژن کی عکاس ہے۔التوامیں پڑے منصوبوں پراہم فیصلے کیے ۔دگنی گیس سسٹم میں شامل ہورہی ہے،ملک میں گیس کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی گئی۔
شاہد خا قان نے کہا کہ قومی منصوبے نہ بننے سے سیکڑوں ڈالرز کا نقصان ہوا،پہلے زیرتکمیل منصوبوں کو مکمل کیا اور نئے منصوبے شروع کیے۔ملکی ترقی کے دعوے کرنیوالے اپنے دور کا کوئی ایک منصوبہ دکھا دیں،او جی ڈی سی ایل نے ثابت کیا کہ اپنا کام مقررہ وقت میں مکمل کرسکتی ہے۔ہم نے گیس کی فراہمی بہتر بنائی اور پلانٹس کی حالت کو بہتر کیا۔منصوبوں کی تکمیل ن لیگ اور نوازشریف کے وژن کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس جگہ موجود ہوں یہاں کی سڑک بھی ن لیگ نے بنائی۔عوامی خدمت مسلم لیگ ن کے حکومت کرنے کا طریقہ ہے۔ان منصوبوں اور شعبوں پر توجہ دی جن پر گزشتہ 65سالوں میں کام نہیں ہواتھا۔65سالوں میں یتنے کام نہیں ہوئے جتنے 5سالوں میں ہوئے ہیں ۔عوام نے حکومت کو آخری دن تک کام کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں امن وا مان کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا۔ہمیشہ ملکی مسائل حل کرنے کی بات کی،ن لیگ نے ثابت کیا کہ ہم اپنے نہیں قوم کے کام کرتے ہیں ۔پیپلزپارٹی اورن لیگ کے کام دیکھ لیں ،فرق واضح نظرآئےگا۔جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے وہی بجٹ کے مخالف ہیں۔ماضی کے الزامات میں نہیں جاناچاہتے،گیس،بجلی کی صورتحال کیا تھی سب کو پتا تھا۔جب اقتدارملاتوامن وامان کی کیا صورتحال تھی سب جانتے ہیں۔
شاہد خاکان عباسی نے کہا کہ بجٹ میں سب سے زیادہ ریلیف عوام کودیا گیا ہے،حکومت ٹیکس نہ دینے والوں کا پیچھا کرے گی ۔ٹیکس ادا کرنا ایک شہری کا بنیادی فرض ہوتا ہے،چوائس نہیں ہوتی ۔جس نے ٹیکس ریفارمز پر تنقید کرنی ہے ، پہلے وہ بتائے کہ 5 سال میں کتنا ٹیکس دیا۔پاکستان کی تاریخ کی پہلی واٹر پالیسی پر اتفاق ہوا،آج یہ کوئلہ نکالا گیا ہے اور یہ ملکی استعمال میں آئے گا۔تھر کا کوئلہ زمین میں ہی رہتا اگر حکومت کوشش نہ کرتی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اکٹھا رکھنے،صوبوں میں ہم آہنگی کیلیے موٹرویزسے بڑا فزیکل طریقہ نہیں ۔دیا مر بھاشا ڈیم کےلیے پیسوں کی کمٹمنٹ کردی ہے،ہم نے عوام کو کام کرکے دکھایا ، جولائی میں فیصلہ آجائے گا ۔ہاں گیس یا بجلی نہیں ہے وہاں گیس اور بجلی مہیا کی جائے گی۔

 

 

 


ایمزٹی وی(اسلام آباد)رمضان المبارک کے مہینے میں پورے ملک کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کرنا ناقابل عمل قرار دے دیا گیا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی سالانہ ترقیاتی اسکیموں اور بجٹ تیاری کو حتمی شکل دینے اور منظوری سے متعلقہ امورکا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں 18 نکاتی ایجنڈا زیرغور آیا۔کابینہ نے پاک چین ایف ٹی اے کے تحت خصوصی فورس کی تربیت کے معاہدے، انٹیلیکچوئل پراپرٹی ٹریبونل کے پریزائیڈنگ آفیسرکی تعیناتی، وفاقی کابینہ کی ان لینڈ ریونیو اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین کی تعیناتی اور لیگل پریکٹیشنر اور بار کونسل ایکٹ 1973ءمیں ترمیم کی منظوری دیدی۔
اجلاس نے ادویات کے لائسنس، رجسٹریشن، تشہیر اور جموں وکشمیر ایڈمنسٹریشن آف پراپرٹی رولز میں مجوزہ ترامیم کے بارے میں قانونی امور کے حوالہ سے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی توثیق کی۔
کابینہ نے کابینہ کمیٹی توانائی میں 2 اور 3 اپریل 2018 میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی جبکہ پاک نائجیریا فضائیہ میں خصوصی فورسز کی تربیت کے معاہدے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ محصولات کی وصولی اور اآئندہ ٹارگٹ کوحتمی شکل دی جائے۔

کابینہ نے پاک چین الیکٹرانک اوریجن ڈیٹا کے دوطرفہ تبادلے کے معاہدے، بورڈ آف انوسٹمنٹ کی تنظیم نو، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کو تحلیل کرنے کی منظوری دیدی۔ اس کے علاوہ کابینہ کی توانائی کمیٹی اور قانونی امور نمٹانے کی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق اور کامران بشارت مفتی کی بطور پریزائیڈنگ آفیسر انٹیلیکچوئل پراپرٹی ٹریبونل، غلام مصطفی میمن کی بطور ایڈمنسٹریشن جج خصوصی عدالت کراچی تعیناتی اور شاہد مسعود منظر کی بطور چیئرمین اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو تعیناتی کی منظوری دیدی گئی۔

اس کے علاوہ کابینہ نے پاکستان اور بیلا روس کے درمیان کسٹم ڈیٹا ایکسچینج معاہدے، پاکستان اور نیپال کےآڈیٹر جنرلز کے درمیان تعاون کے معاہدے اور پاک تاجک آڈیٹر جنرل میں پبلک سیکٹر آڈیٹنگ کیلئے تعاون کی یادداشت کی منظوری بھی دے دی۔

کابینہ نے صنعتوں اور پیداوار کی وزارت کے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو تحلیل کرنے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔دریں اثنا وفاقی کابینہ نے ملک کے مختلف حصوں میں جاری بجلی بحران کے پیش نظر رمضان المبارک کے دوران صرف سحر اور افطار کے اوقات کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کی باضابطہ منظوری دیدی ہے تاہم باقی اوقات میں معمول کے مطابق لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران پورے ملک کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا تاہم اس تجویز پر عملداآمد ممکن نہ ہونے کے باعث کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلے پر عملدرآمد کیا گیا کہ صرف سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی۔

 

 

 

ایمزٹی وی(تجارت)وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2018-19 کیلیے بجٹ کل پیش کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2018-19 کیلیے پارلیمنٹ میں کل پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 5500 ارب روپے کے لگ بھگ رکھے جانے کا امکان ہے۔

ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 433 ارب روپے، ترقیاتی بجٹ کا حجم 1030ارب روپے اور بجٹ خسارے کا ہدف 1870 ارب روپے رکھے جانے کی توقع ہے، اس کے علاوہ اگلے مالی سال کیلیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 6.2 فیصد، زرعی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد، بڑی اور اہم فصلوں کا ہدف 3 فیصد تجویز کیے جانیکا امکان ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10تا 15فیصد اضافہ کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ 2ہزار سے 16ہزار روپے ماہانہ تک یوٹیلٹی الاو¿نس دینے، ہاؤس رینٹ سیلنگ میں اضافہ اور میڈیکل الاو¿نس میں اضافہ سمیت دیگر مراعات بھی زیر غور ہیں، برا?مدات کا ہدف 27 ارب 30 کروڑ ڈالر، درا?مدات کا ہدف 56 ارب 50 کروڑ ڈالر اور تجارتی خسارے کا ہدف 29 ارب 20 کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوگا جس میں اگلے مالی سال کیلیے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔ اسی اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن اور مراعات میں اضافہ کے بارے میں بھی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ سے متعلق تین تجاویز زیر غور ہیں جو کل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلی تجویز سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10سے 15فیصد اضافہ کی ہے جبکہ دوسری تجویز ملازمین کو ملنے والے دو ایڈہاک ریلیف تنخواہوں میں ضم کرکے اس کے بعد 10فیصد اضافہ کرنے کی ہے۔ تیسری تجویز ایک ایڈہاک ریلیف ضم کرکے اس پر 15فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کی ہے۔

رٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 25فیصد تک اضافہ کی تجویز زیر غور ہے دوسری تجویز پنشن میں 15سے 20فیصد اضافہ کی ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی ہائرنگ اور رینٹل سیلنگ میں اضافہ کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں دفاع کیلیے 11 سو ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ فنڈز بنیادی ڈھانچے کے منصوبوںکیلیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سیکیورٹی اور بے گھر افراد کی بحالی کے اقدمات کیلیے دوسرے نمبر پر خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کیلیے 57 ارب روپے، صحت اور بہبود ا?بادی کے لیے 17 ارب، اسٹرٹیجک ڈویلپمنٹ گولز، کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 5 ارب اور سماجی شعبے کے دیگر پروگراموں کیلیے 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلیے 12 ارب، گورننس کیلیے 18 ارب روپے اور ا?زادکشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے علاقوں کیلئے 72 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بے گھر افراد کی بحالی اور سیکیورٹی کی بہتری کے مختلف منصوبوں کیلئے 105 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(تجارت/کراچی)کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت کے مطابق کے الیکٹرک کیلئے گیس کی فوری سپلائی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سپلائی کی جانے والی 190 ایم ایم سی ایف ڈی میں سے 60 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی ہو گی، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم 80 ارب روپے گیس بل کا از سر نو تعین کرے گی۔
سوئی سدرن ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ 15 دن میں طے ہو گا کہ کے الیکٹرک کو کتنی رقم سوئی گیس کو دینی ہے ، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل رقم کی ادائیگی کے معاملے کی نگرانی کریں گے۔
ذرائع سوئی صدرن کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمپنی نے عوامی مفاد اور وزیر اعظم کی خواہش پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم کے الیکٹرک کی جانب سے رقم کی ادائیگی میں پیچھے ہٹنے پر گیس کی سپلائی پھر روکی جاسکتی ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم نے کراچی میں کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ کراچی والوں کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی آج سے کے الیکٹرک کو مکمل گیس فراہم کرے گی۔
کے الیکٹرک نے بھی لکھ کر دیا ہے کہ فرنس آئل پر چلنےوالے تمام پلانٹس سے پیداوار جاری ہے جبکہ اداروں کے واجبات کے معاملات 15روز میں حل کرلیے جائیں گے۔
 

 

 

ایمزٹی وی(تعلیم/سندھ)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی وفاق کو مسلسل تین خطوط لکھنے کی کاوشیں بالآخر رنگ لے آئیں اور وہ کراچی میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر سندھ کا مقدمہ لڑنے میں سرخرو ہوگئے۔ وزیر اعظم نے کے الیکٹرک اورسوئی سدرن کے مسائل حل کردیئے۔
گورنر ہاؤس میں منعقد کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کی درخواست پر وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے ہدایت دیتے ہوئے انہیں کہا کہ سوئی گیس کمپنی کو پابند کریں کہ وہ کے الیکٹرک کو مطلوبہ گیس مہیا کرے اور دونوں اداروں کے بیچ جو بھی معاہدے ہونے ہیں وہ 15 روز کے اندر دستخط ہونے چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو اطمینان میں لیتے ہوئے کہا کہ وہ سوئی گیس کمپنی اور کے الیکٹرک کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر ضرور نظر رکھیں گے۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو تین خطوط لکھنے کے بعد انہوں نے کراچی آنے کا فیصلہ کیا اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی اجلاس میں سوئی گیس اور کے الیکٹرک کے درمیان تنازعہ کو حل کروایا۔
یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو وفاقی کابینہ کمیٹی برائے توانائی میں مدعو کیا گیا۔ بعدازاں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہونے پر کراچی کی عوام کو مبارک باد بھی پیش کی۔
 

 

 

ایمزٹی وی(کراچی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کراچی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ بجلی بحران پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اسلام آباد سے ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچ گئے ہیں۔ وزیر توانائی اویس لغاری بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں بجلی کے بحران کا نوٹس لے لیا ہے۔
وزیراعظم لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں وفاقی وزیراویس لغاری، مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل شریک ہوں گے۔ اجلاس میں کیبنٹ کمیٹی بجلی کے بحران پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
اجلاس میں کے الیکٹرک کے سی ای او طیب ترین اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ایم ڈی امین راجپوت بھی شرکت کریں گے اور توانائی بحران پر اپنی اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کراچی میں سی پیک کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

 

 

ایمزٹی وی(کراچی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کراچی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ بجلی بحران پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اسلام آباد سے ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچ گئے ہیں۔ وزیر توانائی اویس لغاری بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں بجلی کے بحران کا نوٹس لے لیا ہے۔
وزیراعظم لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں وفاقی وزیراویس لغاری، مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل شریک ہوں گے۔ اجلاس میں کیبنٹ کمیٹی بجلی کے بحران پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
اجلاس میں کے الیکٹرک کے سی ای او طیب ترین اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ایم ڈی امین راجپوت بھی شرکت کریں گے اور توانائی بحران پر اپنی اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کراچی میں سی پیک کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

 

Page 3 of 10