پیر, 24 جون 2024

 

ایمزٹی وی(بھکر)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےبھکر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ن لیگ کسی پر لعنت بھیجنے والی سیاست نہیں کرتی، لعنت دینے والوں میں ہمت ہے تو اسمبلیاں توڑ دیں، ن لیگ کا پیغام محبت ہے جبکہ مخالفین کا پیغام لعنت ہے، اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ انہیں کس کا پیغام چاہئے۔
شاہد خاقان عباسی نے لاہور میں متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی جلسے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جلسے میں تقریر کرنے والے زیادہ اورسننے والے کم تھے، جلسے میں پارلیمنٹ پرلعنت بھیجی گئی، مجھے صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی دھمکیاں دی گئی، لعنت بھیجنے والوں اور مال روڈ پر سرکس کرنے والوں کو واضح پیغام ہے کہ جس میں ہمت ہے وہ اسمبلیاں توڑ دے، لعنت بھیجنے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد لے آئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ن لیگ نے ہمیشہ صوبوں کو ملانے کی بات کی ہے اور کبھی تفریق کی بات نہیں کی، عوام کو ملک کے تمام صوبوں میں ن لیگ کے منصوبے نظر آئیں گے، ہمیں عدالتوں میں گھسیٹا گیا اور دھرنے ہوئے لیکن ہم عوامی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹے، ہمارے سیاسی مخالفین کے پاس بھی حکومتیں ہیں لیکن وہ کوئی کام نہیں کرسکے۔

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان نے عمران خان کے پارلیمنٹ کو لعنت دینے پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیرمین تحریک انصاف نے ایوان کو نہیں بلکہ خود کو گالی دی۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے پر ارکان اسمبلی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ مجھے کل والی باتوں کا بہت دکھ ہوا، ہم حکومت کی ناکامیاں پارلیمنٹ کے سر ڈال رہے ہیں، میں اپنے منہ سے وہ الفاظ بول نہیں سکتا جو کل کہے گئے، ہر اس شخص کے منہ میں خاک جوایسا لفظ استعمال کرتا ہے، پاکستان کے 20 کروڑ عوام کو ذہنی مریض بنا دیا گیا ہے، کیا آپ پارلیمنٹ کو تالا لگا کر آمر کو بلانا چاہتے ہیں، ہمارے وزیراعظم کو ایک سیکنڈ میں نکال دیاگیا پھربھی ہم نے اداروں کی توہین نہیں کی جب کہ نواز شریف اور عمران خان اداروں کی توہین کرتے ہیں، مردان اور ڈی آئی خان میں بھی زیادتی کے واقعات ہوئے جنہیں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن ادارے کو گالیاں دینا قابل مذمت ہے، تحریک انصاف نے 2014 میں بھی استعفے دیے لیکن پھر گھٹنوں کے بل چل کر واپس آئے، شیخ رشید کو 2002 میں ایک کرنل نے تھپڑ مارا تو شاہد خاقان عباسی نے اس کرنل کی درگت بنائی، یہ تو ان کی اوقات ہے اور یہ پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں، پارلیمنٹ کے بغیر سیاستدانوں کا کوئی وجود نہیں ہے، آپ جس ایوان کا قائد ایوان بننے کی خواہش رکھتے ہیں اس ایوان کو گالی دے رہے ہیں، آپ کو اداروں کی تکریم کا احساس نہیں اس لیے سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ عمران خان خود بھی اس پارلیمنٹ کا رکن ہے اور اس نے خود پر بھی لعنت بھیجی ہے، وہ عموما اس قسم کے بکواس کرتا رہتا ہے، ان لوگوں نے اپنی پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی پر بھی لعنت بھیجی ہے، ہم ان الفاظ کی سخت مذمت کرتے ہیں، ان لوگوں کے خلاف تحریک استحقاق پیش ہونی چاہئے، اپنے لوگ پارلیمنٹ کو گالیاں دیں گے تو دوسرے ادارے کیسے پارلیمنٹ کا احترام کریں گے۔
اقلیتی رکن قومی اسمبلی خلیل جارج نے کہا کہ شیخ رشید کو دس سال کے لیے نا اہل کیا جائے، عمران خان کے ہاتھ میں وزارت عظمی کی لکیر ہی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کے دوران خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجرم کو پارٹی سربراہ بنائے، جبکہ آج انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کےلیے ’لعنت‘ کا لفظ تو بہت چھوٹا ہے اگر کسی کو میرے اس لفظ پر اعتراض ہے تو عوام سے پوچھ لے۔

 

 

ایمزٹی وی(کوئٹہ)بلوچستان میں وزیراعلیٰ كی تبدیلی كے بعد گورنر بلوچستان کو بھی تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی كو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں گورنر كی تبدیلی كے لیے اقدامات اٹھائے جائیں، جس کے بعد مسلم لیگ(ن) سے تعلق ركھنے والے سردار یعقوب خان ناصر كو بلوچستان كا گورنر بنائے جانے كا امكان ہے۔
ذرائع كا كہنا ہے كہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) كو مزید دھڑوں میں تقسیم سے بچانے اور آئندہ انتخابات میں بلوچستان سے پارٹی كی كامیابی كے لیے یہ فیصلہ كیا.
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بلوچستان میں سنگین سیاسی بحران کے باعث وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے میر عبدالقدوس بزنجو کو نیا وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب کیا گیا۔

 

 

ایمزٹی وی(لاہور)پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ڈاکٹر طاہر القادری کے احتجاج میں شرکت کا فیصلہ کرلیا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو كرتے ہوئے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ 17 جنوری کو طاہر القادری کے احتجاج میں پیپلز پارٹی بھرپور شركت كرے گی، پنجاب كے حكمرانوں كو عہدہ چھوڑنے پر مجبور كریں گے، جسٹس باقر نجفی كی رپورٹ كی روشنی میں ذمہ داروں كو سزا كا مطالبہ كریں گے جب کہ آصف زرداری اور عمران خان ایک ہی كنٹینر پر ہوں گے۔
قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ہم آئین اور قانون كو ماننے والے لوگ ہیں، یہ لاتوں كے بھوت ہیں باتوں سے ماننے والے نہیں، 16 جنوری كو اجلاس ہوگا جس میں آئندہ كا لائحہ عمل طے كریں گے، یہ احتجاج كسی سیاسی ایجنڈے كے لیے نہیں ہے اگر طاقت كے استعمال كی كوشش كی گئی تو پیپلز پارٹی جواب دینا جانتی ہے، ہم نہ ڈرنے والے ہیں نہ جھكنے والے، ہمار ا احتجاج پرامن ہوگا، پیپلز پارٹی نے جب بھی احتجاج كیا جمہوریت كی مضبوطی كے لیے كیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف شیخ مجیب الرحمان كو محب وطن قرار دے رہے ہیں اس بات سے ان کی سیاست كا اندازہ لگا لیں۔

 

 

 

ایمزٹی وی(صحت)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی آج پشاور جائیں گے جہاں پر وہ دوسری مصروفیات کے علاوہ آئی ٹی کے بہت بڑے پروجیکٹ کا افتتاح کریں گے۔نیشنل انکیوبیشن سینٹرکے نام سے یہ آئی ٹی پروجیکٹ ملک میں آئی ٹی کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔پی ٹی سی ایل کے سینئر عہدیدار مظہر حسین نےبتایا کہ نیشنل انکیوبیشن سینٹر وزارت آئی ٹی، اگنائیٹ پی ٹی سی ایل اور ایل ایم کے ٹی کے باہمی اشتراک عمل سے قائم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسے جدید ترین آئی سی ٹی انفراسٹرکچر سے مزین کیا جائے گا جبکہ آئی ٹی کمپنیوں کو فروغ دینے کے لیے سینٹر میں تمام بزنس سہولیات فراہم ہوں گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل انکیوبیشن سنٹر میں آئی ٹی کے نئے گریجوایٹس لئے جائیں گے، جن کو کمپیوٹر انجینئرنگ کے مطابق ہائی ٹیک ڈویلپ کیا جائے گااور ان کی پروفیشنل ٹریننگ کا بندوبست ہوگا۔

 

 

 

ایمزٹی وی(راولپنڈی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسپشل سروسز ہیڈکوارٹر چیراٹ کا دورہ کیا۔

پاک فوج کےشعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسپیشل سروسز (ایس ایس جی) ہیڈ کواٹرز کا دورہ کیا۔وزیراعظم نے پاکستان آرمی بالخصوص ایس ایس جی کمانڈوز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اوریادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

دورے کے دوران وزیراعظم کو ایس ایس جی آرگنائزیشن، صلاحیتوں اور کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جب کہ ایس ایس جی کمانڈوز نے اپنی مہارت کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایس ایس جی کے زیرِ استعمال کچھ ہتھیار چلانے کا تجربہ بھی کیا اور ایس ایس جی کمانڈوز کی بطور ایلیٹ فورس مہارت اور کارکردگی کی تعریف کی۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف ایس ایس جی کی شاندار خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کی قربانیوں سے پاکستان میں امن کاقیام ممکن ہوسکا ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(کوئٹہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

سابق وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی مستعفی ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ نواب ثنا اللہ زہری وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے مشورے پر مستعفی ہوئے ہیں۔

 

وزیر اعظم نے انہیں مشورہ دیا تھاکہ پارٹی کو مزید ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کیلئے انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے تاکہ صوبے میں ہارس ٹریڈنگ نہ ہوسکے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سہہ پہر 3 بجے کے قریب گورنر ہاؤس گئے تھے جہاں انہوں نے ممکنہ طور پر استعفیٰ دیا ہے

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی جس پر آج (منگل کو ) ووٹنگ ہونی تھی جس کیلئے 4 بجے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

 

 

ایمزٹی وی(کوئٹہ)بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلٰی بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد آج پیش ہوگی۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آج شام 4 بجے ہوگا، جس میں منحرف اراکین وزیراعلیٰ کے خلاف باقاعدہ تحریک عدم اعتماد پیش کریں گے۔ ان اراکین کا دعویٰ ہے کہ انہیں 65 کے ایوان میں 40 سے زائد کی حمایت حاصل ہے، جس میں مسلم لیگ (ن) کے 11، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 8، ق لیگ کے 5، بی این پی مینگل کے 2 ارکان کے علاوہ ایم ڈبلیوایم، نیشنل پارٹی اور بی این پی عوامی کا ایک ایک رکن شامل ہے۔
دوسری طرف آج بھی منحرف اراکین کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کوتحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لئے 33 اراکین کی حمایت درکارہوگی تاہم اس کے بعد اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی 3 سے 7 روز میں اس پر رائے شماری کرائیں گی۔
واضح رہے کہ وزیراعلٰی بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کے خلاف بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی گزشتہ روز خصوصی طور پر کوئٹہ پہنچے تھے۔
 

 

 

ایمزٹی وی(کوئٹہ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کوئٹہ پہنچ گئے جہاں وہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کے خلاف تحریک اعتماد کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کے خلاف بغاوت کو کچلنے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کوئٹہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں گے جب کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کل منگل کو بلوچستان اسمبلی میں ہوگی۔
وزیراعظم کوئٹہ میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود اچکزئی سمیت اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ وزیراعظم کی کوئٹہ میں جمعیت علمائے اسلام ف کے وفد سے ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی اتحادیوں سے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے۔ انہیں گزشتہ روز ایک اور دھچکا لگا کیونکہ ق لیگ کے وزیر شیخ جعفر مندوخیل بھی مستعفی ہوگئے جس کے بعد مستعفی وزرا و مشیروں کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔
تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کل منگل کو بلوچستان اسمبلی میں ہوگی، جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بعض قوتیں سینیٹ الیکشن رکوانے کے لیے سازشوں میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنما عبدالقدوس بزنجو نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں شامل اراکین اسمبلی کی تعداد 40 تک جا پہنچی ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(کوئٹہ)وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کیخلاف تحریک عدم اعتماد کل اسمبلی میں پیش کی جائے، ناراض گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں 40 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ بلوچستان بھی حکومت بچانے کیلئے سرگرم ہیں اور 3 وفاقی وزراءنے بھی کوئٹہ میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور ناراض ارکان کو منانے کیلئے کوششیں جاری ہیں ، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بھی دورہ بلوچستان متوقع ہے۔
ناراض رہنما قدوس بزنجو نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں 40سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ زمرگ خان اچکزئی کا کہناتھا کہ جے یو آئی( ف) سے متعلق کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے،جے یو آئی( ف) کے ارکان ہمارے ساتھ ہیں،ان کا کہناتھا کہ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان کی ناانصافیوں کیخلاف کھڑے ہیں،تحریک عدم اعتماد کل 4 بجے پیش کی جائے گی ۔

 

Page 5 of 10