پیر, 24 جون 2024

ایمز ٹی وی(کراچی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن ملک کو دیمک کی طرح کھا گئی ہے


اور قوم غریب ہو رہی ہے۔ پانامہ لیکس پر مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس ون پوائنٹ ایجنڈے پر کسی کیساتھ بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی موجودگی میں یہودیوں کی سازش کی کیا ضرورت؟ ان کا نعرہ ہے کہ رقم بڑھاﺅ نواز شریف! ہم تمہارے ساتھ ہیں۔


کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کرپشن کے باعث قوم غریب ہو رہی ہے اور کرپٹ لوگ اپنے لئے پیسہ بنانے میں ملک کو تباہ کر دیتے ہیں ۔ بلیک منی وائٹ کرنے کیلئے 1992ءمیں اکنامک ریفارمز کی گئیں اور اس دوران حکومت کےساتھ دیگر کرپٹ لوگوں نے بھی فائدہ اٹھایا۔ اب بھی کرپشن کے بڑے مگرمچھوں کو بچایا جا رہا ہے لیکن اگر نیب کو ٹھیک کیا جائے تو یہ خود پکڑے جائیں گے ۔ پنجاب میں مغل اعظم بیٹھے ہیں جو کسی پر بھی ہاتھ رکھ دیتے ہیں ۔ کرپشن اور چوری رک گئی تو پیسہ عوام پر خرچ ہو گا۔


انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس ون پوائنٹ ایجنڈے پر کسی سے بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں ، آصف زرداری اور نواز شریف نے بہت باریاں لے لی ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان کا بھی یہی نعرہ ہے کہ رقم بڑھاﺅ نواز شریف! ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ آئندہ انتخابات میں بھرپور تیاری کیساتھ جائیں گے

ایمز ٹی وی(اسلام آباد) وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی کابینہ سے مطالبہ کریں گے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔


اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثارنے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ 2 سال میں ایف سی اوررینجرزپر75 ارب روپے خرچ کیے، ماضی میں بم دھماکے ہوتے رہے حکمران عوام کو میٹھی گولیاں دیتے رہے، پولیس کی تربیت کمانڈوز کی طرزپرکی گئی ہے، دہشت گردی کے واقعات میں کچہری کے وکلا بھی شہید ہوئے، مجھ پران کا کیا دباؤ ہوگا جن کے پلے کچھ نہیں اور مجھ پراگرکوئی دباؤ ہوا بھی تووہ بس میرے ضمیرکا ہوگا۔


وزیر داخلہ نے کہا کہ کابینہ میں مطالبہ کروں گا کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پبلک کی جائے، سرے محل اورمحلات ہیں دبئی میں کیا ہم بھول گئے ہیں، جس شخص کی والدہ کانام پانامالیکس پرہے وہ دوسروں پربات کرتا ہے، عجب کرپشن کی غضب کہانی ہے جوجواب نہیں دیتے ، اچھا ہوتاوہ شخص کہتا کہ میری ماں کا کیس بھی سپریم کورٹ میں لے جایا جائے، پیپلز پارٹی کا کرپشن مخالف مہم چلانا ایسے ہے جیسے بھارت میں بی جے پی مسلمانوں کےحقوق کے لیے مہم چلائے۔


وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے حوالے سے کہا کہ جبری رخصت پرگزشتہ روزایک انتہائی ایماندارآئی جی کا جوحال کیا گیا وہ بہت افسوس ناک ہے، ہمیں جب معلوم ہوا توہم نے آئی جی سندھ کو پیغام بھیجا لیکن وہ وفاق کے کہنے کے باوجود جبری رخصت پرچلے گئے لیکن اب چاہے وہ زبردستی گئے یا خود سے یہ کہہ نہیں سکتے، وہ بہت ایماندار ہیں اورسندھ میں بہت ساری تبدیلی ان ہی کی وجہ سے آئی ہے۔


اس سے قبل وزیرداخلہ چوہدری نثارنے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ پولیس میں شامل ہونے والے پاکستان کا مان رکھیں، آپ نے قانون کی پاسداری کرنی ہے، اسلام آباد پولیس میں بہت بہتری آئی لیکن ابھی بھی بہت گنجائش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھواورمجرموں، چوروں، کارکنوں کے لیے زمین تنگ کردو، مجھے خوشی ہے آپ اس جہاد میں شامل ہورہے ہیں، ایک جوان سب کچھ بدل سکتا ہے اور وہ تم بھی ہوسکتے ہو، آپ کی ذمہ داری چھوٹی نہیں ہے، آپ کے ہاتھ میں اللہ تعالی نے انصاف کی چھڑی دے دی ہے۔


چوہدری نثار نے کہا کہ آپ نے ہمیشہ حلال کھانا اور انصاف کرنا ہے، میرہ التجا ہے کہ لوگوں کو انصاف دوگے ، دل میں اللہ کا خوف رکھو گے تو دنیا میں اورآخرت میں بھی فلاح پاؤ گے، آپ حکومت کے نہیں پاکستان کے ملازم ہیں اور حرام میں برکت اور سکون نہیں بس نیک نیتی اور انصاف میں سکون ہے۔ رینجرزکے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ رینجرزنے پولیس کے ساتھ مل کر اسلام آباد کو پر سکون بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اسلام آباد پولیس کو رینجرز کے نوجوانوں کو دیکھ کر اپنا معیار مزید تبدیل کرنا چاہیئے کیونکہ وہ بہترین طرح سے اپنی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ چوہدری نثارنے کہا کہ مجھے کرائم ریٹ زیرو کے قریب چاہیئے،آپ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے تربیت لے چکے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ کا پہلا دستہ اسلام آباد پولیس کا ہے۔


وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار ملک کے ساتھ وفاداری نبھائیں، آپ کی مراعات
جتنی بھی ہوں کم ہیں، آپ سینہ سپرہوکر کام کرتے ہیں، آپ نے بہادری اور طاقت سے دہشت گردی کا مقبلہ کرنا ہے اور میں شہیدوں کے خاندانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے دہشتگردی کا قلع قمہ کیا۔ حکومتیں آنی جانی ہیں، پہلے دھماکے ہوتے رہے، حکومتیں خواب خرگوش کے مزے لیتی رہیں لیکن ہم نے اپنی حکومت میں ہمیشہ عملی کام کیا۔

ایمزٹی وی(اسلام آباد)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں بہتری کی امید نظرنہیں آتی کیونکہ اداروں میں بدعنوانی اوراقربا پروری کا بازار گرم ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد ہوا ، جس میں عدالت عظمیٰ کے تمام فاضل جج صاحبان اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے علاوہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدور نے شرکت کی۔

ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان انورظہیرجمالی کا کہنا تھا کہ اسلام انسانیت کا علمبردار، محبت اورامن کا مذہب ہے، بدقسمتی سے اسلام کو مختلف وجوہات کی بناپر پوری دنیا میں بدنام کیا گیا، قانون کی حکمرانی کے لیے اداروں میں ہم آہنگی اورمضبوطی ضروری ہے، ملک میں ہرطرف افراتفری، بدانتظامی اورناانصافی کا دوردورہ ہے، آنے والے وقت میں بہتری کی امید نظر نہیں آتی کیونکہ اداروں میں بدعنوانی اوراقرباپروری کا بازار گرم ہے۔

چیف جسٹس انورظہیرجمالی کا کہنا تھا کہ میں نے ناانصافی، اقرباپروری اور بدعنوانی کے تدارک میں کردارادا کرنے کی کوشش کی ، اب وقت بتائے گا میں اپنی کوششوں میں کتنا کامیاب ہوا، بدانتظامی اورافراتفری سے عوام کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا ہے، بے حسی اور ناامیدی کا احساس تباہی کا سبب بن سکتا ہے، ہمیں اپنی توانائیاں ملک کی بہتری کے لیے صرف کرنی چاہیے، حقوق کی بات کرنے والے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں جب کہ اکثر سرکاری ادارے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام نظر آتے ہیں۔ بطور چیف جسٹس ہر شخص کی جانب سے تعاون پر ان کا شکرگزارہوں، اللہ اس آئینی ادارے کو دوام اوراستحکام بخشے۔

دوسری جانب نامزد جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے والے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی صوفی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، چیف جسٹس کے والد حضرت بابافرید گنج شکر کے مرید تھے، چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی خدمات بے مثال ہیں، ان کا منصب امتحانوں اور آزمائشوں سے بھرا پڑا ہے۔ عدلیہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دارہے، آزاد عدلیہ جمہوریت کا اہم جزو ہے، عدلیہ کو غیر جانبدار اور دباؤ سے آزاد ہوکرکام کرنا چاہیے، اللہ کے فضل سے پاکستان کی عدلیہ آزاد ہے اورعدلیہ آئندہ بھی اپنی آزادی کو برقراررکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بددیانتی، بے ایمانی سے ہی بدعنوانی پروان چڑھتی ہے جب کہ حکومت اورانتظامیہ کی اختیارات کے استعمال میں کوتا ہی کرپشن ہے۔

 


ایمزٹی وی(نئی دہلی)دہلی کورٹ نے بھارتی سابق ایئرچیف کو 14دسمبر تک ریمانڈ پر سی بی آئی کے حوالے کر دیاہے
۔بھارتی میڈیا کے مطابق سابق ایئر چیف ایس پی تیاگی کو ہیلی کاپٹر معاہدے میں 3600کروڑ روپے کی کرپشن کے کیس میں گزشتہ روز حراست میں لیا گیا تھا جبکہ ان کے کزن سنجیو عرف جولی تیاگی اور تاجر گوتم کھیتان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا ۔جس کے بعد انہیں آج عدالت میںپیش کیا گیا ۔

 

 

ایمزٹی وی(لاہور)چیف جسٹس آف پاکستان انورظہیر جمالی نےایوان اقبال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ سے لے کر تمام ڈسٹرکٹ جوڈیشری عدالتیں خود مختار ہیں ہم کسی کو خوش کرنے یا میڈیا کی مدد لینے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قائداعظم کے فرمان کو بھلا دیا گیا جس سے ملک میں لاقانونیت اور دہشتگردی کو فروغ ملا بدعنوانی اور رشوت ستانی ایک لعنت ہے اقربا پروری اور مفاد پرستی سے ریاست کا نقصان ہوتا ہے ملک کی ترقی کے لئے ہم سب کی سوچ ایک ہونی چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ادارہ ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھ سکتا ہے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ایک سوچ کے ساتھ پہلے خود پر قانون لاگو کریں اور عملی اقدامات کئے جائیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ لاہورپنجاب کی تہذیب وتمدن کامرکزہے اور لاہور ہائی کورٹ ملک کی قدیم ترین عدالت ہونے کے اعزاز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ مقام حاصل ہے اسی کورٹ سے ماضی میں عظیم دان ملے اسی کورٹ نے قانون کی حکمرانی میں بنیادی کردار ادا کیا اور انصاف کی فراہمی میں گرانقدرخدمات انجام دیں۔

 

ایمز ٹی وی(کراچی) کراچی میں ایف آئی اے کی کارروائی، میڈیکل فنڈز میں کرپشن کے الزام پر پاکستان سٹیل کے تین افسران گرفتار کر لئے گئے۔

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے کارروائی کرتے ہوئے سٹیل ملز کے 2 اعلیٰ افسران کو کراچی سے گرفتار لیا۔ گرفتار کئے جانے والے افسران میں قائم مقام پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر اسلام بٹ، میڈیکل آفیسر ڈاکٹر منتصر اور پاکستان سٹیل ہسپتال کے انچارج فہد خان شامل ہیں۔ ملزمان پر میڈیکل فنڈز میں کرپشن کا الزام عائد کیا گیا ہے

 


ایمزٹی وی(اسلام آباد)پاناما لیکس کیس میں کمیشن بنانے سے متعلق فریقین کا موقف سننے کے بعد سپریم کورٹ نے کمیشن بنانے کے بجائے کیس کی سماعت جاری رکھنے اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے تک کیس کو سننے کا فیصلہ کر لیا ۔

میڈ یا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کی ۔جس میں عدالت عظمیٰ نے کمیشن بنانے کے حوالے سے فریقین کا موقف سنا ۔

اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنا تو اس کا بائیکاٹ کریں گے ،ہم نے اپنا کیس بنا دیا عدالت اس پر فیصلہ دے ۔ادھر چیف جسٹس نے وزیراعظم کے وکیل سے پوچھا کہ آپ کو کیا ہدایات ملی ہیں جس پر سلمان بٹ نے کہا کہ وزیراعظم کا نام پاناما پیپرز میں نہیں آیا اور اب تک وزیر اعظم کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ،عدالت کمیشن بنانے یا نہ بنانے سے متعلق جو بھی فیصلہ کر لے قبول ہو گا ۔

جب وزیراعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں کمیشن بنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے البتہ کمیشن کے دائرہ کار پر اعتراض ہو سکتا ہے ۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کہا کہ مفاد عامہ کے کیس میں عدالت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،سپریم کورٹ کیس جاری رکھتے ہوئے پورے دلائل سنے گی ۔

عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی ، اب یہ کیس سپریم کورٹ کا نیا بینچ سنے گا ۔واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کی مدت ملازمت 31دسمبر تک ہے ۔

 

 


ایمزٹی وی(اسلام آباد) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ افسوس ہے 74 دنوں میں اس کیس کا فیصلہ نہیں ہوا اور کرپشن کے اس سمندر کے ساتھ ہم 2017ءمیں بھی داخل ہو رہے ہیں۔ نئے چیف جسٹس کا 15 دن پہلے نوٹیفکیشن جاری کر کے موجودہ چیف جسٹس کو پیغام دیا گیا کہ آپ یہ کیس نہ سنیں ۔ میرا موقف یہی ہے کہ کمیشن بنے اور 25 دن میں فیصلہ ہو کیونکہ فیصلہ ہونا ضروری ہے، اس کو قیامت تک لے جانا نامناسب ہے ۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ اگر دال میں کچھ کالا کلا نہیں تھا تو کیا تھا؟ لیکن افسوس ہے کہ 74 دنوں میں کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکا اور کرپشن کے اس سمندر کے ساتھ ہم 2017ءمیں بھی داخل ہو رہے ہیں۔ حکومت کا خوف ہے لیکن سن لیں، ہم 2017ءمیں بھی کرپشن کا پیچھا کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کا مطالبہ تمام جماعتوں کا متفقہ تھا اور اگر کمیشن پہلے بن جاتا تو 74 دن ضائع نہ ہوتے۔ جب تک کس جاری ہے وزیراعظم کو اختیارات استعمال نہیں کرنے چاہئیں، ہم سب کا احتساب چاہتے ہیں اور یہ انصاف کا تقاضہ ہے ۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی نے سب سے پہلے علم اٹھایا ہے، ٹرین مارچ کیا، 4 بل اسمبلی میں پیش کئے، سب سے پہلے عدالت میں پٹیشن جمع کرائی اور عوام کو اکٹھا کرنے کیلئے سب سے زیادہ جلسے کئے کیونکہ کرپشن اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سب کا انصاف چاہتے ہیں کیونکہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ چور اور لٹیرے حکومت میں ہیں یا اپوزیشن میں، ان کا احتساب ہونا چاہئے، لیکن جو بڑا ہے اور سب سے زیادہ ذمہ دار ہے وہ وزیراعظم ہے اور ان کا ٹولہ اور خاندان ہے، سب سے پہلے سپریم کورٹ ان کا احتساب کرے کیونکہ جب تک ان کا احتساب نہ ہوا انصاف کا بول بالا نہیں ہو سکتا اور کرپشن ختم نہیں ہو سکتی۔ قانون، آئین اور اخلاق کا تقاضا ہے کہ سب سے زیادہ ذمہ دار کا سب پہلے احتساب ہو، اس کے بعد جن جن کا نام پانامہ پیپرز میں ہے ان کا احتساب قوم کی آواز اور مطالبہ ہے ۔

 

 


ایمزٹی وی(اسلام آباد) مسلم لیگ (ن) لیگ کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کے سہارے چھن گئے اور اب وہ سیاسی یتیم ہوگئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کیس روزانہ کی بنیاد پرسناجائے، مخالفین کے پاس الزامات ہیں ثبوت نہیں کیونکہ اخباری تراشوں سے کیس نہیں لڑاجاتا۔ دسمبر کےدوران عمران خان کوخاصی ٹھنڈ پڑنے والی ہے، عمران خان کا ہمیشہ کا سہارا لاک ڈاؤن اور دھرنا چھن گیا ہے، اب وہ سیاسی یتیم ہوگئے ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کبھی وکلا تبدیل کرتے ہیں، 2006 سے پہلے فلیٹ کی ملکیت کے الزامات پر کوئی ثبوت نہیں دیے گئے، منی لانڈرنگ، کرپشن، کک بیک کے الزامات کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، نوازشریف کے مینڈیٹ پر الزام لگا تو کلین چٹ سپریم کورٹ سے ملی جب کہ نواز شریف واحد وزیراعظم ہوں گے جنہیں ذاتی الزامات پر سپریم کورٹ سے کلین چٹ ملےگی۔

اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف پی ٹی آئی کے لگائے الزامات سے مکمل کلیئرہوں گے، حکومت کویہاں سے کلین چٹ ملے گی اورتحریک انصاف کوبھی عدالت کافیصلہ خوش دلی سے قبول کرناچاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ الزام کرپشن کا تھا لیکن کچھ ثابت نہیں کیا گیا۔

 

 


ایمزٹی وی(اسلام آباد) قومی اسمبلی کی کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران رانا حیات اور اسد عمر میں نوک جھوک ہو گئی ۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا حیات کی زیر صدارت جاری تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمرکی آمد پر دونوں میں تنزیہ جملوں کا تبادلہ ہو گیا ۔
چیئرمین کمیٹی رانا حیات نے اسد عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں آگئے ہیں تو کنٹینر پر چڑھنا بھی چھوڑ دیں جس پر اسد عمر نے جواب دیا کہ” آپ کرپشن چھوڑ یں ہم کنٹینر پر چڑھنا چھوڑ دیں گے“ ۔
اسد عمر کے اس جواب پر چیئرمین رانا حیات نے استفسار کیا کہ کیا خیبر پختونخوا میں کرپشن ختم ہو گئی ؟ جس پر پی ٹی آئی رہنما مسکرا دیے اور جواب دیے بغیر خاموش ہو گئے۔

 

Page 10 of 16