ھفتہ, 12 اکتوبر 2024
Reporter SS

Reporter SS

 

ایمزٹی وی(راولپنڈی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایل او سی پر مٹی والا، مناور سیکٹر کا دورہ کیا ہے،اس موقع پرانہوں نے جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج کے جوان پاک فوج کی ریڑھ کی ہڈی ہیں،جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جذبے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، پاک فوج پاکستانی اورکشمیری عوام کے تحفظ کی اپنی ذمے داری ادا کرے گی۔
C5MQKbkW8AAyMwa
 
آرمی چیف نے افسروں اور جوانوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی بلااشتعال سیزفائرخلاف ورزیوں کابھرپورجواب دیاجائے، مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں،
 
C5MQKb8WIAEct11
 
مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ہماری یکجہتی جاری رہے گی، بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو بھارتی عزائم کا ثبوت ہے، پاکستان میں دہشت گردی میں بھارتی عزائم سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔
 

 

ایمزٹی وی(مانیٹرنگ ڈیسک)گوگل کی ویڈیو شیئرنگ سروس یوٹیوب نے صارفین کی آسانی کے لیے ویڈیوز کو فون میں محفوظ کرنے کا آپشن کچھ عرصہ قبل ہی فراہم کیا تھا جبکہ اب ایک بار پھر یوٹیوب صارفین کی آسانی کے لیے ایک اہم اپڈیٹ لانے والا ہے۔
گیجٹس ناؤ کی رپورٹ کے مطابق یوٹیوب نے اپنی ویب سائٹ میں ویڈیو سرفنگ کے دوران اچانک آنے والے اشتہارات کے حوالے سے اہم فیصلہ کرلیا ہے۔
یوٹیوب ویڈیوز کے درمیان آنے والے اشتہارات صارفین کے لیے ناپسندیدگی اور جھنجھلاہٹ کا باعث بننے کی اہم وجہ ہیں، خاص طور پر جب ان کے ساتھ 'اسکپ' (Skip) کا آپشن بھی موجود نہ ہو۔
تاہم یوٹیوب کی متوقع اپڈیٹ میں صارفین کے لیے 30 سیکنڈز کی طویل اور اسکپ نہ ہونے والے اشتہارات غائب ہونے والے ہیں۔ویب سائٹ کی جانب سے ممکنہ طور پر کی جانے والی اس اپڈیٹ کا مقصد صارفین کے تجرے کو مزید بہتر بنانا ہے۔
گوگل کے ترجمان کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے مطابق عنقریب یوٹیوب ویڈیوز کے درمیان آنے والے 30 سیکنڈز کے اشتہارات کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔
تاہم چند رپورٹس کے مطابق 30 سیکنڈ سے کم دورانیے کے اشتہارات اس اپڈیٹ کے بعد اسکپ نہیں کیے جاسکیں گے۔

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آبص)قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم حزب الاحرار کی ویب سائٹ کا پتہ لگا لیا ۔
میڈیا ذرائع کے مطابق چند روز قبل مال روڈ پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی کالعدم جماعت حزب الاحرار کی ویب سائٹ کا پتہ لگا لیا ہے اور وزارت داخلہ نے بھارتی ہائی کمشنر کو اس کے ثبوت فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب الاحرار کی ویب سائٹ کا ایڈریس بھارت کے شہر چنائی سے آپریٹ ہوتا ہے ۔ یاد رہے حزب الاحرارنے مال روڈخودکش حملے کے چندگھنٹوں بعداس خونریزی کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

 

 

ایمزٹی وی (اسپورٹس) لنکاشائر کاﺅنٹی نے ٹی 20 چیمپین شپ کیلئے پاکستانی فاسٹ باﺅلر جنید خان سے معاہدہ کرلیا ہے۔ جنید خان نے معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے بھی کاﺅنٹی کرکٹ میں بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اور اب بھی شاندار پرفارمنس کیلئے پر امید ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹی 20 چیمپین شپ کیلئے پاکستانی فاسٹ باﺅلر جنید خان سے لنکا شائر کاﺅنٹی نے معاہدہ کر لیا ہے۔ جنید خان اس سے قبل بھی 2 بار 2011ءاور 2014ءمیں بھی انگلش کانٹی لنکا شائر کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
 
قومی فاسٹ باﺅلر جنید خان ان دنوں پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اچھی فارم میں نظر نہیں آ رہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ بہترین پرفارمنس دینے کیلئے پرامید ہیں۔

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کے وکیل انہیں کرپشن کی اجازت دلوانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں ، بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نے پاکستان کے ادارے تباہ کردیئے ، کرپٹ وزیر اعظم نے پہلے پنجاب پولیس کو تباہ کیا اور اب قومی اداروں کو تباہ کر رہے ہیں ۔
عمران خان نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے خود وزیر اعظم کیلئے کی جانے والی منی لانڈرنگ کی تفصیلات بتا دی ہیں جس سے کرپشن کا ثبوت مل گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ میں ایف بی آر کا چیئرمین بھی کرپٹ ثابت ہوچکا ہے ، سپریم کورٹ میں نیب کے چیئرمین نے جو جواب دیئے اس سے عوام کو صورتحال سمجھ آجانی چاہیئے ، کیا یہ کرپشن نہیں کہ 8 سال میں 14 ہزار ارب کے قرضے لئے گئے ۔ عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کیلئے رینجرز کو لانا ہی پڑے گا ۔

 

 

ایمزٹی وی(اسپورٹس)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے، پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہی ہو گا۔
تفصیلات کے مطابق شہریار خان نے کہا کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور ہی میں ہو گا اور اگر یہ ہو گیا تو دنیا میں پاکستان کی مثبت تصویر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فائنل لاہور میں ہونا بڑا اہم اور خوش آئند اقدام ہے اور اس سے انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں مدد ملے گی۔
شہریار خان نے کہا کہ کافی غیر ملکی کھلاڑی لاہور میں آئیں گے، سیکیورٹی اداروں پر یقین ہے کہ بہتر انتظامات کریں گے اور اس مقصد کیلئے پی سی بی کو حکومت، پولیس، رینجرز، انٹیلی جنس سب کا تعاون حاصل ہے ۔
 

 

 

ایمزٹی وی (پشاور)تنگی کچہری دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکار فضل ربی نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا۔ دہشتگردوں کے بارے بتاتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ”چادر پہنے دو لڑکے بڑھے جب ان کو کہا کہ چادر اتارو تو انہوں نے چادر نہیں اتاری جس کے بعد میں نے ان پر بندوق تانی تو ان میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑالیا“۔
تفصیلات کے مطابق چارسدہ کی تحصیل تنگی کی کچہری کے باہر خودکش حملہ ناکام بنانے والے پولیس اہلکار وں میں شامل اہلکارفضل ربی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی ۔
پولیس اہلکار فضل ربی خودکش حملہ ناکام بناتے ہوئے زخمی ہوگیا تھا اور اس وقت چارسدہ ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔واضح رہے کہ تنگی کچہری کے باہر خودکش دھماکہ ہونے سے 7 افراد شہید جبکہ 20 زخمی ہوگئے تھے جبکہ پولیس کی فائرنگ سے دو دہشتگرد ہلاک ہوئے۔

 

 

ایمزٹی وی(تعلیم/ کراچی)جامعہ کراچی کے رجسٹرار معظم علی خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔
ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو عہدے سے ہٹا کر نبیل زبیری کو رجسٹرار کا چارج سونپ دیا گیا ہے ۔
 

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے چیئرمین ایف بی آر سے استفسار کیا کہ ایف بی آر نے پاناما پر وزارت خارجہ سے کب رابطہ کیا تھا ، پاناما لیکس پر آف شور کمپنیوں کے مالکان کو کب نوٹس جاری کئے تھے۔ جس پر ڈاکٹر ارشاد نے بتایا کہ 2 ستمبر 2016 کو 343 افراد کو نوٹسز جاری کئے گئے تھے۔
جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ 200 گز کا فاصلہ 6 ماہ میں طے کرنے پر آپ کو مبارک ہو، چیرمین ایف بی آر نے جواب میں کہا کہ آف شور کمپنیوں پر صرف ڈائریکٹرز کا نام ہونا کافی نہیں ہوتا اس کے اور بھی تقاضے ہوتے ہیں، 49 کمپنیاں ایسی ہیں جن کے ڈائریکٹرز کا تعلق پاکستان سے نہیں جبکہ 52 افراد ایسے ہیں جنہوں نے کمپنیوں کی ملکیت سے انکار کر دیا ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ شریف فیملی کو نوٹس جاری کرنے پر کن کا جواب آیا۔ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ حسن،حسین اور مریم نواز نے آف شور کمپنیوں پر جواب دیا، مریم نواز نے کہا ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں اوروہ کسی آف شور کمپنی کی بھی مالک نہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا مریم نواز نے ٹرسٹی ہونے کا ذکر کیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ مریم نے اپنے جواب میں ٹرسٹی ہونے سے متعلق کچھ نہیں کہا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ جواب موصول ہونے کے بعد آپ نے کیا اقدامات کیے، چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ہم تمام معلومات کی تصدیق کر رہے ہیں۔
جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ 7 گھنٹوں کےکام میں چیرمین ایف بی آر نے ایک سال لگا دیا، جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے آپ کوتصدیق کےلیے 30 سال درکارہیں، چیرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ٹیکس بچانے کے معاملات کے لیے پاناما جنت ہے۔ پاکستان اور پاناما کے درمیان ٹیکس معلومات کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں۔
جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی آر جو کر رہا ہے سب کے سامنے ہے، کون کب سے بیرون ملک ہے ایک گھنٹے میں پتا چل سکتا ہے، ریکارڈ دکھائیں کہ ٹریول ہسٹری کے لیے کس ادارے کو کب لکھا گیا، جس پر وکیل ایف بی آر کا کہنا تھا کہ عدالت کو دکھانے کےلیے ریکارڈ موجود نہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو تحقیقات بڑھانے کے لیے عدالت کی مداخلت درکار ہے۔ ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ ادارے کی جانب سے فوری اقدامات نہیں کیے گئے لیکن ایک ایشو یہ بھی تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ دوسرے الفاظ میں آپ کا مطلب ہے ایف بی آر نے منی لانڈرنگ پر کچھ نہیں کیا۔ وکیل ایف بی آر نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے لیے الگ قوانین اور ادارے موجود ہیں۔
جسٹس اعجاز افضل نے وکیل ایف بی آر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کارروائی کرنا ہوتی ہے ایف بی آر فوری کارروائی کرتا ہے، آپ کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہیے تھا، جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ کوئی ادارہ کام کرتا تو کیس عدالت میں نہ آتا۔
عدالت نے چیر مین نیب کو روسٹرم پر بلایا جہاں چیر مین نیب کا کہنا تھا کہ نیب اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے، ستمبر 2016 میں معاملہ پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی میں آیا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کمیٹی میں نیب کا موقف تھا کہ ہمارا دائرہ اختیار نہیں، چیئرمین نیب نے جواب دیا کہ نیب کا موقف ہے کہ متعلقہ ادارے کے بعد ہی کارروائی کر سکتے ہیں۔
جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ کیا نیب آرڈی نینس میں کسی ریگولیٹر کا ذکر ہے، ریگولیٹر نیب کے کام میں رکاوٹ کیسے بن گیا جب کہ جسٹس گلزار نے چیر مین نیب سے استفسار کیا کہ کیا نیب کو بھی کوئی ریگولیٹ کرتا ہے جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو اس کے قوانین ریگولیٹ کرتے ہیں۔
جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ نیب قانون چیئرمین کو کارروائی کا اختیار دیتا ہے، ریگولیٹر کا لفظ آخر کہاں سے آیا جب کہ قطری خط میں بھی ریگولیٹر آف پاکستان کا ذکر تھا لہذا پاکستان میں آخر ریگولیٹر ہے کون، کیا ریگولیٹر وہ ہے جو چیئرمین کو تعینات کرتا ہے، اوگرا اور نیپرا کا تو بطور ریگولیٹر سنا تھا لیکن نیب کا ریگولیٹر کون ہے۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ آج پتہ چل گیا کہ نیب کا ریگولیٹر کون ہے، جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ نیب کی ٹیم کو سن کر افسوس ہوا، پراسیکیوٹر جنرل صاحب اب بس کر دیں، آپ نے معاونت کے بجائے عدالت کو گمراہ کرنا شروع کر دیا۔
جسٹس کھوسہ نے کہاکہ باپ سے پوچھو تو کہتا ہے بچوں سے پوچھو،بچے کہتے ہیں ہمیں دادا سے جائیداد ملی جب کہ نیب کہتا ہے کہ ہمیں ریگولیٹر کی اجازت کا انتظار ہے، سمجھ نہیں آ رہا کہ ہو کیا رہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ انوکھا مقدمہ ہے جس میں کسی ادارے کو دائرہ اختیار ہی نہیں، نیب کو تحقیقات کا اختیار نہیں تو آخر کس کے پاس ہے، سوال یہ ہے کہ آخر تحقیقات کرے گا کون اگر ادارے کام کرتے تو آج اتنا وقت اس کیس پر نہ لگتا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو کوئی ریگولیٹ نہیں کرتا، میری تعیناتی شفاف اور قانون کے مطابق ہے جس پر جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو کہانیاں نہ سنائیں۔ جسٹس کھوسہ نے کہاکہ چیئرمین نیب کو تعینات کرنے والے بھی نہیں ہٹا سکتے، اللہ نے آپ کو ایسا عہدہ دیا ہے کہ آپ عوام کی خدمت کر سکیں، جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ایک سال گزر گیا لیکن نیب نے کچھ نہیں کیا۔
جسٹس شیخ عظمت نے چیر مین نیب سے استفسار کیا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس آتا تو نیب انکوائری کرتا، جن کے نام پانامہ پیپرز میں آئے انہیں بلا کر پوچھتے تو سہی، کسی ایک بندے سے پوچھا کہ سرمایہ کہاں سے آیا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ نیب کے لیے یہ اطلاعات نئی نہیں تھیں، ہائی کورٹ نے ریفرنس خارج کردیا تو پھر بھی مواد موجود تھا، نیب نے بینک اکاؤنٹس اور ٹرانزیکشنز پر کیا کارروائی کی جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ ہم کارروائی ضرور کریں گے۔
جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ لوگوں کو امید تھی کہ آپ آف شور کمپنی والوں سے پوچھیں گے، سوال پوچھتے ہوئے نیب کا کیا جاتا تھا لہذا چیئرمین صاحب سوال تو پوچھ ہی لیا ہوتا جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ تاخیر ہوئی لیکن اپنا کام ضرور کروں گا، عدالت کو کارروائی کا یقین دلاتا ہوں جس پر جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ کیا کارروائی کریں گے آپ چیئرمین صاحب، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیا آپ کے کام نہ کرنے کی وجہ وہ شخص ہے جس نے آپ کو تعینات کیا، نیب غیر سنجیدہ مقدمات میں بھی اپیل دائر کرتا ہے اور نیب وکلاء کہتے ہیں حکام بالا کو مطمئن کرنے کے لیے اپیل کرتے ہیں۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے 1.2 ارب روپے کا ریفرنس خارج کردیا، ہائیکورٹ کے فیصلے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ہائیکورٹ کے ریفری جج نے اس معاملے پر فیصلہ دیا جو ان کو بھجوایا ہی نہیں گیا، سوال یہ ہے کہ ریفری جج کو اپنی آبزرویشن دینا چاہیے تھی۔
جسٹس کھوسہ نے کہا کہ نیب نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی زحمت نہیں کی، کیا ہم نیب کو اپیل دائر کرنے کا حکم دے سکتے ہیں، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں لہذا عدالت آپ سے معاونت چاہتی ہے، قطری کہتا ہے کہ 8 ملین ڈالرز التوفیق کیس میں اس نے ادا کیے جب کہ نیب کہتا ہے 8 ملین ڈالرز حدیبیہ پیپز ملز نے ادا کیے جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ مقدمہ ایف آئی اے نے تیار کیا تھا۔
جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ عدالت نے تکنیکی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا، عدالت نے کیس کو بے بنیاد قرار نہیں دیا تھا جب کہ اپیل دائر نہ کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی، 4 سو روپے کے ملزم کی ضمانت ہو جائے تو نیب عدالت کا دروازہ توڑ دیتا ہے، چھوٹے ملزمان کے خلاف اپیل فوری دائر کر دی جاتی ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل سے مشاورت کر کے ہی اپیل دائر کرتے ہیں جس پر جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ جہاں اپیل کا فیصلہ نہ کرنا ہو وہاں بات ہی نہیں سے شروع ہوتی ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ نیب نے نہیں لکھا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے جس پر چیئر مین نیب نے جواب دیا کہ میں اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے کا حصہ تھا، اپیل تیار کرنے والوں نے ہی کہہ دیا کہ فائدہ نہیں ہو گا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اس وقت کے پراسیکیوٹر نے دوبارہ تحقیقات کی حد تک اپیل کرنے کا کہا تھا جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ اپیل دائر نہ کرنے سے متعلق قانونی رائے پر قائم ہوں، جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ عدالت کے دائرہ اختیار پر قانونی معاونت فراہم کروں گا، درخواستوں میں وزیر اعظم کی نااہلی مانگی گئی ہے اور نااہلی سے متعلق عدالتی فیصلوں کی مثالیں موجود ہیں، حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کی درخواستیں دائر کیں لیکن حنیف عباسی کی درخواستوں کو پانامہ کیس سے منسلک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منفرد کیس ہے، اس کیس کے لیے منتخب کیا گیا فورم اسے دوسرے مقدمات سے منفرد بناتا ہے جب کہ درخواستیں کو وانٹو اور الیکشن پٹیشنرز کی نوعیت کی ہیں لہذا ایسی درخواستوں کی سماعت کرنا عدالت کا معمول نہیں، ایسے مقدمات کی سماعت عدالت کا دائرہ اختیار نہیں جب کہ ماضی میں بھی عدالت نے ایسی درخواستوں کو پذیرائی نہیں بخشی، عدالت کا وضع کردہ قانون تمام ارکان پارلے منٹ پر لاگو ہو گا۔
اٹارنی جنرل کے جواب پر جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو آرٹیکل 184 تین کے تحت عوامی مفاد کی درخواستیں سننے کا اختیار ہے،قانونی مثال دیں کہ عدالت نے اختیار ہوتے ہوئے استعمال نہ کیے ہوں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت ان کی آواز بنی ہے جو اپنی آواز خود نہیں اٹھا سکتے،عدالت نے ہمیشہ بنیادی حقوق کے مقدمات میں اپنا اختیار استعمال کیا۔
جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کر چکے ہیں جب کہ اختیارات کا استعمال کیس کے حقائق کے مطابق کیا جاتا ہے اور اچھے جج کبھی اپنے اختیارات پر قدغن نہیں لگاتے، جسٹس گلزار نے کہا کہ عدالت کا دائرہ اختیار محدود نہیں ہوتا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ دائرہ اختیار قانون کے مطابق ہی استعمال ہوتا ہے۔
جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دیکھنا ہو گا عدالت کے پاس دستیاب ریکارڈ کیا ہے اور پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا بنیادی حقوق متاثر ہوئے، کیا عدالت نے اس مقدمہ میں کسی کو سننے سے انکار کیا جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فریقین کا متفق ہونا بھی عدالت کو اختیار نہیں دیتا اور عدالت نے شفاف ٹرائل کو بھی دیکھنا ہے اور بات مقدمہ سننے کی نہیں فیصلے کی ہے۔
جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی کی غلط بیانی پر اس کو نا اہل کر سکتے ہیں جب کہ کونسا آدمی ہو گا جس نے بیوی سے جھوٹ نہیں بولا، بیوی فون کرے تو خاوند کہتا ہے راستے میں ہوں جب کہ خاوند دفتر میں بیٹھا کام کر رہا ہوتا ہے، صرف وہ شخص جو شادی شدہ نہیں وہ بیوی سے جھوٹ نہیں بولتا ہے۔
جسٹس کھوسہ نے کہا کہ مسئلہ یہی ہے کہ ہر پہلو کے دوررس نتائج ہوں گے، کیس میں دلائل مکمل ہونے کے بعد ہزاروں دستاویزات جمع کروا دی گئیں لہذا جمع کرائی گئی غیر ضروری دستاویزات کو ہم نہیں پڑھیں گے جب کہ کیا 1.2ارب روپے ایسے ہی جانے دیں، ممکن ہے حدیبیہ پیپرز کیس کے الزامات درست ثابت نہ ہوں اور کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت کو نیب کو ہدایات نہیں دینی چاہیے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی بالکل عدالت کو نیب کے معاملے میں ہدایات نہیں دینی چاہیے کیونکہ اگر عدالت نے نیب کو ہدایات دیں تو بری مثال قائم ہو گی۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو کل اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد نعیم بخاری جوابی دلائل دیں گے، جسٹس کھوسہ نے کہا اگر لکھ دیا کہ نیب نے قانون کی خلاف ورزی کی توچیئرمین عہدے پر نہیں رہ سکیں گے جب کہ صرف جواب الجواب کا موقع دیا جائے گا، مزید دستاویزات وصول نہیں کی جائیں گی۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ٹیکس چوری کا معاملہ ہے، عوام جاننا چاہتی ہے کس نے کتنا ٹیکس دیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے آپ کل تک دلائل مکمل کرلیں گے، کوشش کریں گے پرسوں تک کیس کی سماعت مکمل ہوجائے، ایک دن درخواست گزاروں کے جواب الجواب کے لئے کافی ہوگا جب کہ کیس میں دلائل مکمل ہونے کے بعد غیر ضروری صفحات جمع کرائے گئے ہیں جس پر نعیم بخاری نے پوچھا کہ کیا آپ میری طرف اشارہ کررہے ہیں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ غیر ضروری صفحات کا لفظ دونوں فریقین کے لیے استعمال کیا ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(کوئٹہ)ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہونے سے 2 افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق لیویز ذرائع نے بتایا کہ بارودی سرنگ کا دھماکہ اس وقت ہوا جب 3 راہگیر وہاں سے گذر رہے تھے جس کے نتیجے میں ایک زخمی راہگیر کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز اس کا علاج کرنے میں مصروف ہیں جبکہ 2 جاں بحق افراد کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ قبل ازیں چارسدہ تنگی کچہری دھماکے کے نیتجے میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 20 زخمی ہوگئے تھے۔چار سدہ پر دھماکے کی ذمہ داری جماعت الحرار نے قبول کرلی۔